دہلی بلڈوزر کارروائی؛متاثرین کا حکومت پر یکطرفہ اور جبری کارروائی کا الزام
ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں ہوئی تازہ بلڈوزر کارروائی کے متاثرین نے حکومت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے اُسے یکطرفہ اور جبری کارروائی قرار دیا ہے۔
سحرنیوز/ہندوستان:
ہندوستانی میڈیا کے مطابق دارالحکومت دہلی کے ترکمان گیٹ علاقے میں واقع مسجد اور درگاہ فیض الٰہی سے ملحقہ ڈسپنسری اور دیگر عمارت کے خلاف رات تقریباً ڈیڑھ بجے انہدامی کارروائی کی گئی جس کے پیش نظر تقریباً صبح سات بجے تک دفعہ ایک سو چوالیس اور ایک سو ترسٹھ نافذ رہی۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel

مسجد فیض الہی انتظامیہ کے خزانچی نے سرکاری میڈیا نمائندہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً دو تین ماہ قبل نوٹس دیا گیا تھا، اس کے بعد تمام فیصلے جلد بازی میں لیے گئے اور ہمیں اپنا موقف رکھنے کے لیے مہلت بھی نہیں دی گئی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج سات جنوری بروز بدھ دہلی ہائی کورٹ میں تاریخ تھی اور آگے کے لائحہ عمل کے حوالے سے فیصلہ آنا تھا، لیکن سماعت سے قبل ہی حکومت نے بلڈوزر کارروائی کرتے ہوئے ڈسپینسری اور شادی ہال کو زمیں بوس کر دیا۔ سماجی کارکن اور مقامی باشندے شفیع دہلوی نے پوری کارروائی کو یکطرفہ قرار دیا۔

انہدامی کرروائی کے دوران ناراض مقامی لوگوں نے پتھراؤ کیا جس میں متعدد پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ پولیس نے دس لوگوں کو حراست میں لے لیا ہے۔