Feb ۱۸, ۲۰۲۰ ۱۴:۱۳ Asia/Tehran
  • حلب اور ادلب میں شامی فوج کی کارروائیوں نے دشمنوں کی ناک رگڑ دی ، صدر بشار اسد (تفصیلی خبر)

شام کے صدر بشار اسد نے کہا ہے کہ ادلب اور حلب کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کی کارروائیوں نے دشمنوں کی ناک رگڑ دی ہے - انہوں نے کہا کہ ترکی کے ہنگامے اور شور شرابے کے باوجود دہشت گردوں کے خلاف شامی فوج کی کارروائیاں جاری رہیں گی ۔

شام کے صدر بشار اسد نے ادلب اور حلب صوبوں میں دہشت گردوں کے مقابلے میں شامی فوج کی شاندار کامیابیوں کی مناسبت سے ٹیلی ویژن پر قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ ادلب اور حلب کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کی کارروائیوں نے دشمنوں کی ناک رگڑ دی ہے ۔

انہوں نے حلب اور ادلب صوبوں میں شامی فوج کی حالیہ کامیابیوں کو شام میں دہشت گردوں کی حتمی شکست کا پیش خیمہ قرار دیا - انہوں نے کہا کہ حلب اور ادلب کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کی کارروائیاں ترکی کے ہنگامے اور شور شرابے کی پروا کئے بغیر جاری رہیں گی -

شام کے صدر نے دہشت گردوں کے مقابلے میں شامی فوج کی حالیہ کامیابیوں پر شامی عوام کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ شامی فوج ملک کے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے فداکاری اور پوری بہادری کے ساتھ جنگ کررہی ہے - اس درمیان شام کے ٹرانسپورٹ کے وزیر علی حمود نے کہا ہے کہ ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ کھول دیا گیا ہے - انہوں نے کہا کہ دمشق سے حلب کے لئے پہلی پرواز انیس فروری کو انجام پائے گی -

شام کے ٹرانسپورٹ کے وزیر علی حمود نے کہا کہ حلب سے دمشق اور قاہرہ کے لئے پروازوں کا شیڈول بھی آئندہ چند روز کے اندر تیار کرلیا جائے گا -

حلب کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ ایک ایسے وقت کھولا گیا ہے جب پچھلے چند روز سے شامی فوج حلب کے مغربی علاقوں اور ادلب کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لئے برق رفتاری کے ساتھ پیشقدمی کررہی ہے۔ ادھر حلب سےدمشق جانے والی اہم شاہراہ پر شامی فوج کا کنٹرول ہوجانے کے بعد اس شاہراہ کی مرمت کا کام بھی شروع ہوگیا ہے اور بہت جلد اس شاہراہ پر ٹریفک بحال ہوجائے گا -

واضح رہے کہ شامی فوج کی جانب سے حلب اور ادلب میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں جن کی ترکی مخالفت کررہا ہے - ترکی بھی شام میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے حامیوں میں سے ایک ہے - حلب کے بعض علاقے اور صوبہ ادلب اس وقت شام میں دہشت گردوں کا آخری گڑھ ہے۔ شام کا بحران دوہزار گیارہ میں امریکا، اسرائیل اور علاقے میں بعض رجعت پسند عرب حکومتوں کے حمایت یافتہ مسلح دہشت گرد گروہوں کے ذریعے شام پر حملہ کرکے پیدا کیا گیا تھا جس کا مقصد علاقے میں صیہونی حکومت کی سیکورٹی کو یقینی بنانا تھا لیکن شامی فوج نے اسلامی جمہوریہ ایران کی فوجی مشاورت اور روس کی مدد سے شام میں داعش کی کمر توڑدی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کا بھی تیزی کے ساتھ قلع قمع کیاجارہا ہے -

ٹیگس

کمنٹس