Mar ۲۳, ۲۰۲۰ ۰۹:۰۳ Asia/Tehran
  • پاکستان لاک ڈاؤن نہیں ہوگا، متاثرین کی تعداد 800

پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اگر ہمارے حالات اٹلی اور چین کی طرح ہوتے تو پورا پاکستان لاک ڈاؤن کر دیتا۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس سے 6 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ 24 گھنٹوں کے دوران 170 نئے کیسز سامنے آئے جس کے بعد مریضوں کی تعداد 800 کے قریب ہوگئی جس میں سے 5 صحت یاب ہوکر گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔

پاکستان میں اس قسم کی صورتحال کے پیش نظراس ملک کے وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بحث چل رہی ہے کہ ملک کو لاک ڈاؤن کرنا چاہیے، لاک  ڈاؤن یا کرفیو کا مطلب شہریوں کو گھروں میں مکمل بند کردینا ہے، اگر آج پورا لاک ڈاؤن کردیتا ہوں تو دہاڑی والے گھروں میں بند ہوجائیں گے، 25 فیصد غریب لوگوں کا کیا ہوگا، کیا ہمارے پاس اتنے وسائل ہیں کہ دہاڑی والے تمام لوگوں کو گھروں میں خوراک پہنچا سکیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نے اسکول، یونیورسٹیاں اور شاپنگ سینٹرز بند کردیے ہیں تاہم عوام کو خود اپنے آپ کو لاک ڈاؤن کرنا چاہیے۔ تاہم دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبہ سندھ میں 15 روز کے لئے لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تمام دفاتر اور اجتماع گاہیں بند ہوں گی۔

کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے پیش نظرآج 23 مارچ کو ایوان صدر اور گورنرز ہاوٴسز میں یوم پاکستان کے موقع پر قومی اعزازات کی تقریب منسوخ کردی گئی ہے اور قوم آج یوم پاکستان سادگی کے ساتھ منائے گی۔

ٹیگس

کمنٹس