Sep ۱۶, ۲۰۲۰ ۱۱:۱۰ Asia/Tehran
  • پاکستان فرقہ وارانہ ٹکراؤ کا متحمل نہیں ہو سکتا: شیعہ اور سنی علماء

پاکستان میں ایک بار پھر منظم سازش کے ذریعے فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پاکستان کے شیعہ اور سنی علماء کا کہنا ہے کہ ملک فرقہ واریت کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لئے ارباب اقتدار اس گہری سازش کو ناکام بنانے کیلئے فوری اقدام کرے۔

مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ سید وحید کاظمی نے کہا ہے کہ کوہاٹ میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کا تسلسل وطن عزیز کو کسی نئی آزمائش میں جھونکنے کی سازش ہے، شیعہ نسل کشی کی تازہ لہر کالعدم تکفیری جماعتوں کی فع کی نشاندہی کر رہی ہے، اگر حالات کی سنگینی کو بروقت درک نہ کیا گیا تو پوری قوم کو بھیانک نتائج کا سامنا کرنا پڑ جائے گا، قوم نے دہشت گردی کے خلاف جو جنگ ستر ہزار جانوں کی قربانی دے کر جیتی ہے، اسے رائیگاں نہ جانے دیا جائے، ملک کے مختلف حصوں میں شیعہ نوجوانوں کو نشانہ بنا کر فرقہ واریت کے فروغ کے لیے فضا ہموار کرنے کی کوشش طاغوت کا ایجنڈا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق گروپ کے سربراہ مولانا حامد الحق حقانی نے پاکستان میں جاری ٹارگٹ کلنگ پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ استعماری قوتیں ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کروانا چاہتی ہیں، اہلبیتؑ اور صحابہ کرامؓ کی ناموس کا تحفظ ہم پر لازم ہے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام فرقے ملک میں فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کریں، فرقہ واریت کو منظم انداز میں فروغ دیا جا رہا ہے اور اس مقصد کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

مولانا حامد الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی فرقہ واریت کا متحمل نہیں ہوسکتا، اس لئے ہم تمام مکاتب فکر کے علماء سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنے اپنے پیروکاروں کو پُرامن رہنے کی تلقین کریں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں منگل کے روز مسلح دہشتگردوں نے بشیر میڈیکوز میں داخل ہوکر فائرنگ کی اور دو افراد سید ارتضٰی حسن اور سید علی حسن کو قتل کر دیا ۔

دونوں افراد کا تعلق ہنگو کے علاقے ابراہیم زئی سے تھا۔ اس سانحہ پر عوام نے خاص طور سے ابراہیم زئی قبائل میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور علاقے کے مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کر دیا ۔

ٹیگس

کمنٹس