ایران کے خلاف جنگ اور پابندیوں کے مخالف ہیں ؛ پاکستان
پاکستان کے وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی منصب کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایران کو عالمی برادری کا اہم ملک قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف طاقت کے استعمال کی شدید مخالفت کا اعلان کیا ہے۔
سحرنیوز/پاکستان: پاکستان کے دفتر خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے سفارتی کاری اور مذاکرات کو ضروری قرار دیتے ہوئے اسلام آباد اور تہران کے درمیان رابطے جاری رکھے جانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
پچھلے سات روز کے دوران پاکستان کے وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے ساتھ دوسری بار ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ ترجمان طاہر اندرابی نے ایران کے اندرونی معاملات میں ہرقسم کی بیرونی مداخلت کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ملک تمام مسائل کے پرامن اور سفارتی حل پر زور دیتا ہے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے، برادر ہمسایہ ملک ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں اور خطے میں اس کی فوجی نقل و حرکت کے بارے میں کہا کہ ، ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان شروع ہی سے امن اور سفارت کاری کا حامی اور ایران کے خلاف جنگ کا مخالف رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور یک طرفہ پابندیوں کا بھی مخالف ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی طرح کی جنگ پورے خطے کی سلامتی، استحکام اور معیشت کے لیے نقصان کا باعث بنے گی۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بار پھر اپنے ملک کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ایٹمی معاہدے کی اساس پر منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قرار داد کے تحت ایران کے خلاف تمام پابندیاں فوری طور پر ختم ہونا چاہییں۔
انہوں نے پاکستان کی جانب سے انسانی حقوق کونسل میں ایران مخالف قرارداد پر منفی ووٹ دیئے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران عالمی برادری کا ایک اہم اور فعال ملک ہے اور اس کے خلاف کسی بھی سطح پر طاقت کے استعمال یا جنگ سے گریز کیا جانا چاہیے۔