Nov ۲۷, ۲۰۱۹ ۰۶:۴۰ Asia/Tehran
  • بے جا سوالات سے پرہیز کرنا

أَمْ تُرِيدُونَ أَن تَسْأَلُوا رَسُولَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوسَىٰ مِن قَبْلُ ۗ وَمَن يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ

اے لوگو! کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے ویسا ہی مطالبہ کرو جیسا کہ موسٰی علیھ السّلام سے کیا گیا تھا تو یاد رکھو کہ جس نے ایمان کو کفر سے بدل لیا وہ بدترین راستے پر گمراہ ہوگیا ہے ﴿108﴾
نکات: 
آیت پر توجہ کرنے سے اور جو کچھ شان نزول سے بات سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ بعض کمزور ایمان والے مسلمانوں اور مشرکین نے حضرت رسولِ خدا سے بے ربط اور غیر منطقی سوالات کرنا شروع کر دیے مثلاً  کہنے لگے ہمارے لیے خدا کی طرف سے کوئی خط لے آئیے یا نہریں بہا دیجیے اور کچھ لوگ مثلاً بنی اسرائیل کہنے لگے ہمیں اپنی آنکھوں سے خدا کا دیدار کروائیے تاکہ ہم اس پر ایمان لے آئیں. !!
اگرچہ اعجاز کرنا اور معجزہ لانا پیغمبر کی دعوت کی سچائی اور تمام حجت کے لیے ضروری ہے لیکن ہر لحظہ اور ہر کس و ناکس کی طرف معجزے کا تقاضا اور ہر راہ چلتا شخص جس قسم کا چاہے سوال کردے تو ان سب افراد کے مطالبے پورے کرنا ضروری نہیں ہے. ایک انجینئر یا نقشہ نویس اپنے دعوے کے اثبات کیلئے نمونہ کے طور پر چند ایک کام کرکے دکھاتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ وہ ہر شخص کے لئے گھر بناتا رہے یا نقشے تیار کرتا پھرے۔ 
مشکلات کا ذکر یا انبیاء کی تاریخ کو بیان کرنا، پیغمبر اکرم ص کی تسلی خاطر ہے. اگر آپ (ص) سے لوگ نامعقول قسم کے سوال اور درخواستیں کرتے ہیں تو آپ پریشان نہ ہوں آپ سے پہلے والے انبیاء​ سے بھی اسی قسم کی درخواستیں کی جاتی رہی ہیں۔ 

پیغام:

1- بے جا سوالات اور درخواستوں سے پرہیز کرو کیونکہ کبھی اس سے کفر کی راہیں ہموار ہوتی ہیں. " ام تریدون ان نسئلو ۔ ۔ ۔ ومن یتبدل الکفر " 
2- ماقبل ادیان کے پیروکاروں کو جو مشکلات و خطرات درپیش تھے، وہ مسلمانوں کیلئے بھی ہیں. " تسئلو رسولکم کما سل موسیٰ" 
3-  دوسروں کے انجام اور عاقبت سے درس عبرت حاصل کرو.
آیت نمبر 108
تفسیر قرآن
تفسیرنور محسن قرائتی
سورہ بقرہ

ٹیگس

کمنٹس