• لندن میں نمازیوں پر دہشت گردانہ حملہ ، 2 افراد جاں بحق 10 زخمی

برطانیہ کے مختلف شہر دہشت گردانہ حملوں کے باعث ناامنی کا شکار ہیں اور اس بار لندن میں روزہ دار نمازیوں کو دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

برطانوی پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شمالی لندن کے فنزبری پارک کے سیون سسٹرز روڈ پر واقع ایک مسجد پر ایک ڈرائیور نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے ہیں۔
پولیس کے بیان کے مطابق نمازیوں پر ہونے والے اس حملے میں ایک شخص موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ ایک شخص اسپتال میں جان کی بازی ہار گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک ڈرائیور نے مسجد سے عبادت کر کے باہر نکلنے والے افراد پر اپنی گاڑی چڑھا دی اور اس کے بعد گاڑی میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے باہر نکل کر نمازیوں پر چاقو سے وار کر نا شروع کر دیا۔
لندن حملے کے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ وین کا ڈرائیور شکل سے یورپی نظر آرہا تھا اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اقدام مسلمان مخالفین نے انجام دیا ہے۔
اس عینی شاہد نے بتایا کہ اس حملے کے پینتالیس منٹ بعد بھی جائے واردات پر پولیس اور امبیولینس نہیں پہنچی تھی۔
لندن کے پولیس حکام نے اس واقعے کو ایک سنگین دہشت گردانہ واقعہ قرار دیا ہے اور برطانیہ کی انسداد دہشت گردی پولیس بھی اس واقعے کی تحقیقات میں شامل ہوگئی ہے۔
اڑتا لیس سالہ وین ڈرائیور کو جائے واردات پر موجود لوگوں نے پکڑ پولیس کے حوالے کردیا ہے۔
کہا جارہا ہے کہ وین ڈرائیور کو بھی اسپتال پہنچا دیا گیا ہے اور نفسیاتی مریض کے عنوان سے اس کا میڈیکل ٹیسٹ انجام دیا جائے گا۔
اس حملے کے سلسلے میں برطانیہ کی لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کوربن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ سخت حیرت میں ہیں۔
برطانوی وزیر اعظم تھریسامئے نے بھی جنھیں لندن کی مسلم نشین عمارت گرینفل ٹاور میں آتش سوزی کی بنا پر سخت تنقیدوں کا سامنا ہے، لندن مسجد سانحے پر فورا بیان جاری کرکے متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
تھریسا مئے نے اپنے ایمیل بیان میں حالیہ حملے کو ایک خوفناک سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پوری طرح ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو اس حملے سے متاثر ہوئے ہیں۔
برطانوی وزیر داخلہ نے بھی سانحہ متاثرین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے، ان لوگوں کا مقابلہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو برطانوی عوام کے اندر خوف و وحشت پھیلانا چاہتے ہیں۔

Jun ۱۹, ۲۰۱۷ ۱۱:۴۰ UTC
کمنٹس