• ایٹمی معاہدے کے تحفظ کے لئے یورپ نئے پیکج کی تیاری میں مصروف

یورپی ممالک تدابیر اور اقدامات کا ایک پیکج تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا مقصد امریکی صدر کی جانب سے پندرہ اکتوبر کو جامع ایٹمی معاہدے کی تائید نہ کرنے کی صورت میں اس معاہدے کو محفوظ رکھنا ہے۔

نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق یورپی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پیکج جامع ایٹمی معاہدے کی حمایت میں ٹھوس بیان اور امریکی کانگریس کے ساتھ مذاکرات اور لابنگ کی کوششوں پر مشتمل ہو گا۔
برلن، پیرس اور لندن میں اعلی یورپی عہدیداروں نے بتایا ہے کہ جامع ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے نکل جانے کی صورت میں اس معاہدے کے ٹوٹ جانے کا بھی امکان پایا جاتا ہے جس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
یورپی یونین کے امور خارجہ کی عہدیداروں نے بھی کہا ہے کہ جامع ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے نکل جانے کی صورت میں دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ امریکہ قابل اعتماد نہیں ہے۔
یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج فیڈریکا موگرینی نے پی بی ایس، ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ جامع ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے نکل جانے کی صورت میں واشنگٹن کے ساتھ معاہدوں میں دیگر ممالک کی دلچسپی بھی کم ہو جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے دستبرداری کی صورت میں امریکہ کی عالمی ساکھ بھی متاثر ہو گی کیونکہ وہی ملک جس نے دو سال قبل سلامتی کونسل میں اس معاہدے کے حق میں ووٹ دیا تھا آج اسے مسترد کر رہا ہے۔
یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج نے کہا کہ جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ امریکہ جامع ایٹمی معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو اس سے دنیا کو اس بات کا موقع ملے گا کہ کوئی بھی ملک جب یہ سمجھے گا کہ آئندہ حکومت کے ساتھ اس سے اچھا معاہدہ کیا جاسکتا ہے تو وہ مذاکرات میں دلچسپی لینا چھوڑ دے گا۔
جامع ایٹمی معاہدے کے بارے میں امریکی حکومت کے پالسیی بیان کا وقت قریب آنے کے ساتھ ہی دنیا کی مختلف شخصیات اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے صدر ٹرمپ کو مسلسل یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ جامع ایٹمی معاہدے سے نکلنے سے گریز کریں۔

Oct ۱۲, ۲۰۱۷ ۱۰:۱۴ UTC
کمنٹس