Sep ۱۱, ۲۰۱۹ ۱۹:۰۸ Asia/Tehran
  • جان بولٹن کی اچانک برطرفی پر امریکی حکام کا ردعمل

قومی سلامتی کے مشیر کے عہدے سے جان بولٹن کی اچانک برطرفی پر امریکی حکام نے الگ الگ ردعمل کا اظہار کیا ہے

قومی سلامتی کے مشیر کے عہدے سے جان بولٹن کی اچانک برطرفی پر امریکی حکام نے الگ الگ ردعمل کا اظہار کیا ہےامریکی صدر ٹرمپ نے منگل کو اپنے ٹویٹر پیج پرا علان کیا کہ قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اب حکومت میں نہیں رہیں گے اور اگلے ہفتے تک وہ اس عہدے کے لئے کسی دوسرے شخص کے نام کا اعلان کردیں گے -

اس کے ساتھ ہی ٹرمپ کے معاون ہوگن گیڈلی نے اعلان کیا کہ اس وقت چارلز کوپرمین کو عبوری طور پر قومی سلامتی کے امور کا مشیر بنادیا گیا ہے -

جان بولٹن نے اچانک انہیں ان کے عہدے سے برطرف کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے استعفے کی پیشکش کی تھی جس پر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ابھی رہنے دو کل تک دیکھتے ہیں - ٹرمپ اور بولٹن کے بیانات میں تضاد ان خبروں کا ہی تسلسل ہے جو ان دونوں کے درمیان اختلافات کے تعلق سے سامنے آرہی تھیں اسی طرح بولٹن اور وزیرخارجہ مائیک پمپیؤ کے درمیان بھی اختلافات کی خبریں گرم تھیں تاہم امریکی وزیرخارجہ پمپیئو نے جان بولٹن کے ساتھ اپنے اختلافات کی خبروں کی پردہ پوشی کرتے ہوئے کہا کہ جان بولٹن کی برطرفی پر انہیں کوئی تعجب نہیں ہوا اور ان کے جانے سےوائٹ ہاؤس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی =

جان بولٹن اس ٹیم کے ایک رکن تھے جس کو ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف ٹیم بی کہتے تھے جو دنیا کی سب سے زیادہ جنگ پسند ٹیم تھی اور بقول ایرانی وزیرخارجہ اسی ٹیم بی نے ہی پوری دنیا میں بدامنی پھیلا رکھی تھی - اب جبکہ جان بولٹن کو اچانک ان کے عہدے سے فارغ کردیا گیا ہے تو خود امریکی سیاستدانوں اور حکام نے اس پر اپنے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ چنانچہ جب امریکی وزیرخزانہ منوچین سے پوچھا گیا کہ جان بولٹن کو اچانک ان کے عہدے سے برطرف کردئے جانے پر انہیں تعجب نہیں ہوا؟ تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ عراق جنگ کے بارے میں صدر ٹرمپ اور جان بولٹن کے خیالات ایک دوسرے سے بیحد مختلف تھے - ریپبلیکن سینیٹر رینڈ پال نے بھی جان بولٹن کی برطرفی کے بعد کہا کہ جان بولٹن کے وائٹ ہاؤس سے چلے جانے کے بعد دنیا میں جنگ کا خطرہ کافی حدتک کم ہوجائےگا ۔ نیوجرسی سے امریکی سینیٹر باب منذر نے سی این این سے اپنے انٹرویو میں کہا کہ جان بولٹن کو اس لئے برطرف کردیا گیا کہ وہ ملک کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے امور میں کوئی خاص کام نہیں کرسکے تھے - امریکا کی سابق وزیرخارجہ کونڈالیزا رائس نے بھی اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ وائٹ ہاؤس کے اندر اختلافات پائے جاتے ہیں کہا کہ ٹرمپ اور جان بولٹن کے درمیان اختلافات عیاں تھے اور یہ واضح تھا کہ صدر ٹرمپ انہیں فارغ کردیں گے -

ٹیگس

کمنٹس