Jan ۲۸, ۲۰۲۰ ۱۴:۰۹ Asia/Tehran
  • امریکی وزیر جنگ کا طیارہ تباہی کی تفصیلات بتانے سے گریز

امریکی وزیر جنگ مارک ایسپر نے افغانستان میں تباہ ہونے والے فوجی طیارے کے بارے میں کوئی موقف اختیار کرنے اور مزید اطلاعات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے۔

سی این این کے مطابق امریکی وزیر جنگ مارک ایسپر نے افغانستان میں  فوجی طیارے کی  تباہی کی مزید تفصیلات بیان کیے بغیر کہا ہے کہ انہیں اس واقعے کا علم ہے لیکن وہ اس بارے میں مزید کچھ بیان کرنے سے قاصر ہیں۔

 مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ امریکی وزارت جنگ پینٹاگون واقعے کے حوالے سے معلومات جمع کر رہی ہے جس کے بعد میڈیا کو صورتحال سے آگاہ کیا جاسکے گا۔

امریکی وزارت جنگ کے عہدیداروں نے افغانستان کے صوبے غزنی میں امریکی دہشت گرد فضائیہ کے ای الیون قسم کے طیارے کے تباہ ہوجانے کا اعتراف تو کیا ہے تاہم اس حوالے سے صحیح معلومات میڈیا کو فراہم کرنے سے کترا رہے ہیں۔

دوسری جانب طالبان گروہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں صوبہ غزنی میں مذکورہ امریکی طیارے کو مارگرائے جانے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ بیان میں یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ طیارے کی تباہی میں، سی آئی اے کے بعض اعلی افسران سمیت اس میں سوار تمام افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور ان کی لاشیں جائے وقوعہ کے قریب پڑی دیکھی جاسکتی ہیں۔

درایں اثنا دفاعی تجزیوں کی ویب سائٹ ویٹرنز ٹوڈے نے روسی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ افغانستان میں تباہ ہونے والے طیارے میں، ایران کی سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کا قاتل اور ایران کے خلاف کاروائیاں انجام دینے والے سی آئی اے کا گروپ کمانڈر مائیکل ڈی آندرے سوار تھا۔ مائیکل ڈی آندرے کو مغربی ایشیا میں سی آئی اے کا اہم ترین افسر تصور کیا جاتا ہے اور وہ عراق، ایران اور افغانستان کے خلاف سی آئی اے  کے آپریشن گروپ کا کمانڈر ہے۔

روزنامہ نیویارک ٹائمز نے جون دوہزار سترہ  کو چھپے ایک مقالے میں مائیکل ڈی آندرے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا  تھا کہ سی آئی اے نے مائیکل کو پرنس آف ڈارک نیس اور آیت اللہ مائک جیسے القابات دیئے ہیں۔

قبل ازیں میڈیا ذرائع نے گوسپا نیوز کے چیف ایڈیٹر فیبیو کاریسو کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ممکن ہے کہ مغربی ایشیا کے امور میں سی آئی اے کا ڈائریکٹر آیت اللہ مائک افغانستان میں تباہ ہونے والے طیارے کے حادثے میں مارا گیا ہو۔

ٹیگس

کمنٹس