• شہید  محمد جواد باہنر اور شہید محمد علی رجائي
    شہید محمد جواد باہنر اور شہید محمد علی رجائي

30 اگست محمد جواد باہنر اور محمد علی رجائي کی شہادت کا دن ہے۔

وزيراعظم کے دفترمیں دھماکہ، اسلامی جمہوری پارٹی کے دفترمیں دھماکےاورقائدانقلاب اسلامی پرقاتلانہ حملےکے دومہینوں بعد ہوا تھا۔

اس کے بعد سے منافقین کی جانب سے قتل کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

 ایم کے او کے دہشت گرد، ایران کے مختلف علاقوں میں بے گناہوں کوقتل کررہے تھے اوران کے آقا، بغداد میں صدام کے تعاون کی قسمیں کھا رہے تھے جس نے، امریکہ سمیت دنیا کے کم سے کم پندرہ ملکوں کی مدد سے ایران کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی تھی۔

منافقت کا یہ فتنہ، عوام کی بیداری کے بعد ختم ہو گیا لیکن ان کے خلاف نفرت کی آگ آج بھی ایرانی عوام کے دلوں میں سلگ رہی ہے اور ان سے تو وہ بھی نفرت کرتے ہيں جو انقلاب کے حامی نہيں سمجھے جاتے اور یہی وجہ ہے کہ صیہونی حکومت  اورامریکہ ان منافقوں کے سب سے بڑے حامی ہيں اورپیرس، لندن اورواشنگٹن میں ان کے لئے اجلاسوں کا انعقاد کرتے رہتے ہیں۔  دلچسپ بات یہ ہےکہ خونخوار دہشت گردوں کی میزبانی کرنے والے یہی ملک، ایران پردہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہيں۔

شہید باہنراور شہید رجائي کا یوم شہادت،  ایران کی مختلف حکومتوں کی کارکردگی کو پرکھنے کا ایک موقع بھی ہے۔ 

 ہمارے ملک کے بہت سے حکام اورعام لوگ، شہید باہنراور شہید رجائي کی روش پر زندگی گزارتے ہيں۔ ان دونوں شہیدوں نے ایم کے او کے دہشت گردوں کی گولیاں کھائيں تاکہ ملک کے عوام، اچھی حکومت کے طریقے سے آشنا ہو سکیں۔

 امید ہے ہمارے حکام، اسی جذبے کو اپنےاندرمزید مستحکم کریں گے-
Sep ۰۲, ۲۰۱۵ ۱۳:۱۱ UTC
کمنٹس