Oct ۰۴, ۲۰۱۵ ۰۷:۳۱ Asia/Tehran
  • طالبان لیڈر ملااختر منصور
    طالبان لیڈر ملااختر منصور

طالبان لیڈر ملااختر منصور نے اعلان کیا ہے کہ قندوز جیسے حملوں اور قبضوں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

طالبان لیڈر ملااختر منصور نے اعلان کیا ہے کہ قندوز جیسے حملوں اور قبضوں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا-

ایسو شی ایٹیڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ملااختر منصور نے جو ٹیلی فون کے ذریعے کسی نامعلوم جگہ سے اس نیوز ایجنسی کو انٹرویو دے رہے تھے دعوی کیا ہے کہ گذشتہ چند دن پہلے قندوز شہر پر قبضہ ایک علامتی کامیابی تھی اور طالبان آئندہ بھی ایسی کارروائیاں کرتے رہیں گے-
 طالبان نے اٹھائیس ستمبر کو شہر قندوز پر حملہ کر کے سرکاری اداروں اور ایک اسپتال کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اور کچھ طالبان سرغنوں سمیت تقریبا چھ سو قیدیوں کو رہا کرانے کے ساتھ ہی شہر پرقبضہ کر لیا تھا- اس کے بعد قندوز میں فوج اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپ کے بعد فوج نے شہر کو آزاد کرا لیا-

 افغان صدر نے قندوز کو آزاد کرانے کے فوج کے اقدام کو سراہتے ہوئے اس شہر کے سقوط کے اسباب کا جائزہ لینے کے لئے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی ضرورت پر تاکید کی- افغان صدر اشرف غنی نے خبردار کیا کہ جس عہدیدار نے بھی اپنی ذمہ داری نبھانے میں کوتاہی کی ہوگی یا غیر سنجیدگی کا کیا ہوگا اسے سخت سزا دی جائے گی- سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ ان افواہوں کے پیش نظر کہ شہر قندوز ، طالبان کے ساتھ بعض سرکاری اور فوجی عناصر کے تعاون کے باعث آسانی سے سقوط کر گیا لہذا قندوز پر طالبان کا قبضہ اس کی مکمل فوجی کامیابی شمار نہیں ہوتا- اگرچہ طالبان، قندوز پر قبضے کواپنی بڑی کامیابی سمجھتے ہیں اور اس سے افغانستان اور علاقے میں استفادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن افغانستان کی قومی فوج کے ہاتھوں اسے فورا آزاد کرا لئے جانے سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں اپنے ملک کی سرحدوں کو کنٹرول کرنے اور ملک کے مختلف علاقوں کوسیکورٹی فراہم کرنے کی صلاحیت موجود ہے-

بعض ماہرین اس خیال کومسترد نہیں کرتے کہ گذشتہ دنوں میں بڑے پیمانے پر طالبان کے حملوں میں غیرملکی طاقتوں کی ہماہنگی اور مدد بھی شامل تھی اور جو ممالک طالبان میں اثر و نفوذ رکھتے ہیں اور انھیں افغانستان کے حالات پر اثر انداز ہونے کے لئے آلہ کار کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں، ابھی حال ہی میں طالبان کے درمیان اختلافات اور اس میں تقسیم کو روکنے کی کوشش کرتے رہے ہیں تاکہ ضروری فوجی مدد اور شمالی افغانستان کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر حملوں کی زمین ہموار کرسکیں- افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کے شعبہ نشر و اشاعت کے سربراہ نجیب منلای نے سقوط قندوز کے سلسلے میں آئی آر آئی بی کی پشتو سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے بعض مقامی عہدیدار اور فوجی کمانڈر پاکستان کی خفیہ ایجنسی آیس ایس آئی کے زیر اثر تھے-

صوبہ پروان کے گورنر محمد عاصم نے کہا ہے کہ طالبان حملے سے پہلے حکام کو دھمکی دیتے ہیں انھوں نے شہر قندوز کے سقوط اور شمالی افغانستان میں ہونے والی جھڑپوں میں اضافے میں بیرونی عوامل کار فرما ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور پاکستان سمیت بعض مغربی اور علاقائی ممالک بھی ان جھڑپوں اور افغانستان میں جنگ جاری رہنے کے اصلی عوامل ہیں - سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ طالبان لیڈر کی جانب سے افغانستان میں جنگ جاری رہنے پر تاکید اور افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کے ان کے حالیہ رجحان میں تضاد پایا جاتا ہے- افغان عوام کا کہنا ہے کہ ملک میں پائدار امن کے لئے طالبان کی جانب سے طاقت کی نمائش کی ضرورت نہیں ہے بلکہ طالبان کی دوراندیشی اور ملک کے موجودہ حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ حکومت کے ساتھ امن مذاکرات جاری رکھ کر ملک میں پائدار امن قائم کرنے میں مدد کے ساتھ ہی افغانستان میں داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لئے قومی ماحول تیار ہو سکے-

ٹیگس