اسرائیل کے تسلط پسندانہ اقدامات میں اضافہ
Oct ۰۴, ۲۰۱۵ ۱۴:۱۱ Asia/Tehran
-
اسرائیل کے تسلط پسندانہ اقدامات میں اضافہ
فلسطینی علاقوں میں صیہونی حکومت کی تسلط پسندانہ پالیسیوں پر عمل درآمد کا نیا دور شروع ہو گیا ہے۔
صیہونی حکومت کے صدر روون ریولین نے اس سلسلے میں ایک بار پھر دریائے اردن کے مغربی کنارے پر صیہونی حکومت کی حاکمیت کا دعوی کیا ہے۔ روون ریولین نے اپنے بیان میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صیہونی کالونیوں کی تعمیر جاری رکھنے پر زور دیا۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے جولان کے مقبوضہ علاقے میں صیہونی حکومت کی جانب سے صیہونی کالونیوں میں توسیع کی خبر دی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے جولان کی مقبوضہ پہاڑیوں پر صیہونی حکومت کی جانب سے صیہونی کالونیوں کی توسیع کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسرائیل کی کابینہ نے جولان کے مقبوضہ علاقے میں سینکڑوں نئے خاندانوں کو بسانے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
جبکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت صیہونی حکومت پر ایک قابض حکومت کی حیثیت سے مقبوضہ علاقوں کے جغرافیائی ڈھانچے اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے پر پابندی لگائی گئی ہے لیکن صیہونی حکومت نے ہمیشہ ہر ممکن طریقے سے آزاد فلسطینی ریاست کہ جس کا دارالحکومت قدس ہو، کے قیام کو روکنے کی کوشش کی ہے اور اس لیے وہ مذکورہ علاقوں کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں یعنی غاصب اسرائیل میں شامل کرنے کے درپے ہے۔
صیہونی حکومت صیہونی کالونیاں تعمیر کر کے اپنے زیرقبضہ علاقوں میں آبادی کے تناسب کو صیہونیوں کے حق میں تبدیل کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ ان علاقوں پر اپنے قبضے کو مضبوط بنا سکے اور اس چیز کا دریائے اردن کے مغربی کنارے میں کہ جہاں صیہونی حکومت تیزی سے صیہونی کالونیوں میں توسیع کر رہی ہے، واضح طور پر مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ دریائے اردن کے مغربی کنارے کا شمار فلسطین کے ان علاقوں میں ہوتا ہے کہ جن پر صیہونی حکومت نے انیس سو سڑسٹھ میں قبضہ کر لیا تھا۔ صیہونی حکومت کے منصوبے اور اقدامات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ فلسطینی علاقوں میں اس حکومت کی توسیع پسندی خطرناک مراحل میں داخل ہو گئی ہے اور صیہونی حکومت مختلف طریقوں سے فلسطینیوں کے حقوق کو مکمل طور پر پامال کرنا چاہتی ہے۔
یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب شام کے علاقے جولان میں صیہونی حکومت کے توسیع پسندانہ اقدامات نے بھی اس حکومت کی ہوس اور لالچ کو عیاں کرنے کے ساتھ ساتھ ایک بار پھر رائے عامہ کی توجہ بحران شام میں اس غاصب حکومت کے کردار اور اس صورت حال سے صیہونی حکومت کے غلط فائدہ اٹھانے کی جانب مبذول کرا دی ہے۔
ایک طرف غاصب اسرائیل کے توسیع پسندانہ اقدامات جاری ہیں تو دوسری جانب صیہونی حکام شام کے علاقے جولان پر اپنا قبضہ باقی رکھنے کے بارے میں بیانات دے رہے ہیں، یہ سب کچھ ایسے حالات میں ہو رہا ہے کہ جب شام کو کئی برسوں سے مغرب، عالمی صیہونزم اور علاقے میں اس کے پٹھوؤں کی سازشوں کی وجہ سے ایک وسیع داخلی بحران کا سامنا ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صیہونی حکومت نے انیس سو سڑسٹھ کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران جولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے ایک بڑے حصے پر اب بھی اس کا قبضہ ہے۔ صیہونی حکومت نے اپنی توسیع پسندی کو جاری رکھنے اور اپنے زیرقبضہ علاقوں میں اضافہ کرنے کے لیے چودہ دسمبر انیس سو اکاسی کو اپنی پارلیمنٹ میں ایک قانون پاس کیا کہ جس میں اس نے جولان کی مقبوضہ پہاڑیوں کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیا اور اس سلسلے میں دیگر قوانین کی بھی منظوری دی۔
یہ سب ایسے حالات میں تھا کہ جب صیہونی حکومت کے اس اقدام کے صرف تین دن بعد یعنی سترہ دسمبر انیس سو اکاسی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد چار سو ستانوے جاری کر کے شام کے علاقے جولان پر صیہونی حکومت کی حاکمیت کو غیرقانونی قرار دے دیا۔ اس دور مین اقوام متحدہ کے ردعمل سے ظاہر ہو گیا کہ عالمی برادری صیہونی حکومت کی تسلط پسندی اور توسیع پسندی کو ہرگز قبول نہیں کرتی ہے۔
صیہونی حکومت کہ جو کسی بھی بین الاقوامی قاعدے، قانون اور قرارداد کی پابند نہیں ہے، مختلف ہتھکنڈوں اور حربوں سے شام کے علاقے جولان سمیت مقبوضہ علاقوں میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے، اس علاقے کی جغرافیائی ساخت اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی لانے کے ذریعے اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کر رہی ہے۔