Oct ۰۶, ۲۰۱۵ ۱۴:۲۷ Asia/Tehran
  • سعودی عرب کا تیل کی قیمتوں میں کمی اور پیداوار میں اضافے کا فیصلہ؛ نتیجہ کیا نکلے گا؟
    سعودی عرب کا تیل کی قیمتوں میں کمی اور پیداوار میں اضافے کا فیصلہ؛ نتیجہ کیا نکلے گا؟

تیل کی عالمی قیمتوں کو متوازن رکھنے کے لیے اوپیک کی کوششوں کے باوجود سعودی عرب نے ایک بار پھر اس کی مخالف سمت میں قدم اٹھایا ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے پیر کے روز اس بارے میں ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی عرب نے ایک بار پھر اپنے تیل کی قیمت کم کرتے ہوئے اپنی تیل کی پیداوار کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسی حالت میں کیا گیا ہے کہ جب تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے ویانا میں گزشتہ مہینے اپنے اجلاس میں واضح طور پر کہا تھا کہ اوپیک کے رکن ممالک تیل کی پیداوار میں اضافہ اور تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی کمی نہیں کر سکتے۔ ماہرین کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں تیل کی قیمت میں نصف سے زیادہ کمی اقتصادی وجوہات سے زیادہ سیاسی عوامل کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ روزنامہ ڈیلی ٹیلی گراف نے اپنی حالیہ اشاعت میں لکھا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کا مقصد کہ جس کے منصوبہ ساز علاقے میں امریکہ کے اصلی اتحادی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت ہیں، روس کے اقتصاد کو مفلوج کرنا اور اسے نقصان پہنچانا ہے۔ ماہرین کے بقول اگر آئندہ سال کے دوران تیل کی متوسط قیمت بدستور پچاس ڈالر فی بیرل سے کم رہی تو اس سے روسی حکومت کو مشکلات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ روس دنیا میں تیل کی بیس فیصد اور قدرتی گیس کی قابل ذکر ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب ایران کے ایٹمی سمجھوتے کے مخالف کیمپ میں شامل ہے کیونکہ اس کو ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور اوپیک اور تیل کی منڈیوں میں ایران کی بھرپور اور موثر واپسی پر تشویش ہے۔ اس بنا پر وہ اپنے ناقص خیال میں اس حربے کے ذریعے ایران کی تیل کی صنعت کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس پالیسی کو جاری رکھنا لیکن سعودی عرب کے لیے آسان نہیں ہے اور اسے بھی اس کی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ تیل کی طلب میں کمی کے باوجود سعودی عرب کی جانب سے اپنی پیداوار کو بڑھا کر ایک کروڑ پانچ لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچا دینا آل سعود خاندان کے لیے ایک خطرہ ہے جس سے اس کا شیرازہ بکھر سکتا ہے اور تیل کی قیمت کے مسئلے پر جنگ جاری رہنے سے اس کی بقا خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ سعودی عرب کی نوے فیصد قومی پیداوار کا تعلق تیل سے ہے اور سعودی حکام نے گزشتہ پچاس برسوں کے دوران اپنی آمدنی کے ذرائع بڑھانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا ہے۔ سعودی عرب کے مالی ذخائر گزشتہ سال اگست کے مہینے میں سات سو سینتیس ارب ڈالر تھے کہ جو صحیح سرمایہ کاری نہ کرنے کی بنا پر گھٹ کر چھے سو تہتر ارب ڈالر رہ گئے اور اعداد و شمار اور تجزیوں کے مطابق یہ ہر مینے بارہ فیصد کم ہو رہے ہیں اور مغرب والوں کے اندازوں کے مطابق سعودی عرب کے مالی ذخائر دو ہزار اٹھارہ میں کم ہو کر دو سو ارب ڈالر رہ جائیں گے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کی جانب سے مصر کے صدر جنرل السیسی سے کیے گئے مالی وعدوں، یمن اور شام کی جنگوں کے اخراجات اور بحرین میں سعودی عرب کی مداخلت کے اخراجات کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، بعض جائزوں میں ان اخراجات کا تخمینہ اب تک پینتالیس ارب ڈالر سے زائد لگایا گیا ہے۔ سعودی عرب کے داخلی حالات کو بھی دیکھیں تو اس وقت تقریبا تیس لاکھ افراد ماہانہ بے روزگاری الاؤنس وصول کر رہے ہیں کہ جن میں اکثریت اس ملک کے نوجوانوں کی ہے۔ یہ تمام باتیں سعودی عرب کے رجعت پسند حکمرانوں کی عدم بصیرت اور ناسمجھی کی نشانیاں ہیں کہ جو انھیں تیزی سے زوال کی جانب لے جا رہی ہے جو اس کی بدانتظامی اور نیابتی جنگوں کا نتیجہ ہے۔ سعودی عرب کہ جو اس وقت روزانہ تقریبا ستر لاکھ بیرل تیل برآمد کر رہا ہے، اس دباؤ کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہے اور تیل کی پیداوار میں اضافے اور اس کی قیمت میں کمی جیسے فیصلے اس سے پہلے کہ تیل کی منڈی کا کنٹرول ہاتھ میں لینے کے حوالے سے نتیجہ خیز ثابت ہوں، اقتصادی خودکشی کے مترادف ہیں۔

ٹیگس