افغان امن کونسل کے نئے سربراہ کا انتخاب
Nov ۰۶, ۲۰۱۵ ۱۸:۵۱ Asia/Tehran
-
افغانستان کی امن کی اعلی کونسل کا سربراہ، محمد یونس قانونی
اففانستان کے سابق جہادی رہنما محمد یونس قانونی کو افغانستان کی امن کی اعلی کونسل کا نیا سربراہ منتخب کیا گیا ہے ۔
اففانستان کے سابق جہادی رہنما محمد یونس قانونی کو افغانستان کی قومی سلامتی کونسل میں کہ جو اس ملک کے صدر محمد اشرف غنی کی صدارت میں منعقد ہوئی تھی سلامتی کونسل کا نیا سربراہ منتخب کیا گیا۔محمد یونس قانونی افغانستان کے صوبہ پنجشیر کے رہنے والے ہیں جو اس عہدے پر فائز ہونے سے پہلے قومی اسمبلی کے سربراہ وزیر داخلہ اور وزیر تعلیم رہ چکے ہیں۔ محمد یونس قانونی مارشل محمد قاسم فہیم کی موت کے بعد کچھ عرصے تک سابق افغان صدر حامد کرزئی کے سینیئرنائب صدر بھی رہ چکے ہیں ۔
یاد رہے برہان الدین ربانی افغان امن کونسل کے پہلے سربراہ تھے ان کے قتل کے بعد ان کے بیٹے صلاح الدین ربانی کو اس کونسل کا سربراہ بنایا گیا تھا ۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہےکہ محمد یونس قانونی کو امن کونسل کا سربراہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ حکومت افغانستان کے موجودہ حالات میں محمد یونس قانونی کی اہمیت کی قائل ہے اور اس کی شخصیت سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے ۔ افعان امن کونسل کی اہم ذمہ داریوں میں ایک افغان آئین کی روشنی میں ملک میں امن کے عمل کو آگے بڑھانے کی راہ ہموار کرنا اور طالبان سے مذاکرات کرنا ہے ۔
اس کونسل کے سابق سربراہ صلاح الدین ربانی کو وزیر خارجہ کی ذمہ داری دینے کے بعد طالبان سے مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھانے میں اس کونسل نے نمایاں کردار ادا کیا اور پاکستان میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور انجام پایا۔
مذاکرات کا دوسرا دور ملا عمر کی ہلاکت کی خبر کے سامنے آنے کے بعد پاکستان کی طرف سے انجام نہ پاسکا تاہم افغان حکومت کا ماننا ہے کہ افغان کونسل کے نئے سربراہ کے انتخاب کے بعد پاکستان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ دوبارہ آگے بڑھے گااور طالبان اور کابل حکومت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ از سر نو شروع ہوجائے گا ۔
نئے سربراہ محمد یونس قانونی جو جہادی اور سیاسی میدان میں وسیع تجربے کے حامل ہیں اس لئے ان کی افغان کونسل کے نئے سربراہ کی حیثیت سے تعیناتی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ محمد یونس قانونی کے جہادی ماضی کی وجہ سے شمالی اتحاد بھی طالبان سے مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کرے گا۔
محمد یونس قانونی کے نئے سربراہ بننے سے یہ افواہیں بھی دم توڑ دیں گی کہ جہادی مذاکرات کے مخالف ہیں ۔ افغان کونسل کے پہلے سربراہ برہان الدین ربانی بھی سابقہ جہادیوں میں شامل تھے۔ یہ کہنا کہ محمد یونس قانونی اپنی سیاسی اور قانونی حیثیت کی وجہ سے افغانستان میں امن کے عمل کو آگے بڑھائیں گے اور اس میں نئی روح پھونک دیں گے کافی حد تک درست ہے کیونکہ اس وقت افغانستان طالبان اور دہشتگرد گروہ داعش کی وجہ سے بری طرح بدامنی کا شکار ہے اور اس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
اس وقت کابل حکومت کو پہلے سے زیادہ مذاکرات کے از سر نو آغاز کی سخت ضرورت ہے تاکہ طالبان کے ساتھ کشیدگی کو ختم کرکے ایک قومی اور اجتماعی عزم نیز پوری طاقت کے ساتھ داعش کے خلاف مقابلے کے لئے زمین ہموار کی جا سکے۔