Nov ۲۴, ۲۰۱۵ ۱۵:۵۹ Asia/Tehran
  • روسی صدر سے ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی کے بیانات
    روسی صدر سے ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی کے بیانات

تہران میں پیر کو گیس برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم جی ای سی ایف کا سربراہی اجلاس ہوا-

گیس برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہوں نے تہران میں جی ای سی ایف کے آئندہ منصوبوں کے بارے میں صلاح و مشورہ کیا- اس اجلاس کے موقع پر روس کے صدر ولادیمیر پوتن سمیت بعض ملکوں کے سربراہوں نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کی-

اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے علاقے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے طویل مدت منصوبوں اور سازشوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ لوگ ( امریکہ اور اس کے اتحادی ) شام پر تسلط اور پھر علاقے پر اپنے کنٹرول کا دائرہ بڑھا کر، مغربی ایشیا پر تسلط حاصل نہ کر پانے کے تاریخی خلا کی تلافی کرنا چاہتے ہیں اور یہ منصوبہ تمام ممالک بالخصوص روس اور ایران کے لئے ایک خطرہ ہے-

رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید فرمائی کہ امریکہ اور شام کے مسئلے میں واشنگٹن کی راہ پر چلنے والے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ جو اہداف فوجی طریقے سے عملی جامہ نہیں پہن سکے ہیں انھیں مذاکرات اور سیاسی راستے سے حاصل کریں کہ جسے ہوشیاری اور فعال موقف کے ذریعے عملی جامہ نہیں پہننے دینا چاہئے-

اس ملاقات میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اسلامی جمہوریہ ایران کو ایک خود مختار، پائدار اور نہایت اچھے مستقبل کا حامل ملک قرار دیا اور کہا کہ ہم علاقے اور دنیا میں ایران کو ایک قابل اطمینان اور قابل اعتماد اتحادی سمجھتے ہیں-

ولادیمیر پوتن نے شام کے بارے میں دونوں ملکوں کے موقف کو ایک دوسرے سے نہایت قریب قرار دیا اور اس سلسلے میں بے پناہ تعاون کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ روس بھی تاکید کرتا ہے کہ بحران شام کو صرف سیاسی طریقے سے عوامی ووٹوں کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے اور کسی کو بھی شام کے عوام پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت نہیں ہے-

رہبر انقلاب اسلامی نے اس سے قبل ونزوئیلا اور نائیجیریا کے صدر سے ملاقات میں مغرب کی دہری پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہرگز قابل اعتماد نہیں ہے - رہبر انقلاب اسلامی نے اسی بنیاد پر داعش اور بوکوحرام جیسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ میں امریکہ اور مغرب کی مدد اور تعاون سے لو لگانے کو غلط قرار دیا اور فرمایا کہ دقیق اطلاعات کے مطابق امریکہ اور علاقے کے بعض قدامت پرست ممالک عراق میں داعش کی براہ راست مدد کر رہے ہیں اور تخریبی کردار ادا کر رہے ہیں-

امریکہ نے ماضی میں لاتینی امریکہ میں بھی دوسرے انداز میں یہی پالیسی اختیار کر رکھی تھی اور اسے اپنی کالونی سمجھتا تھا- لیکن ونزوئیلا جیسے ممالک نے اپنے انقلابی اقدامات سے اس علاقے کے تشخص اور خود مختاری کو زندہ کر دیا- اس سلسلے میں مغربی ایشیا کے علاقے میں امریکی پالیسیاں بدستور جاری ہیں کہ جن میں داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کو امریکہ کی بالواسطہ اور بلاواسطہ مدد کی فراہمی بھی شامل ہے-

اس بنا پر رہبر انقلاب اسلامی نے کھل کر کہا کہ امریکی ، شرافت مندانہ سفارتکاری کے حامل نہیں ہیں- رہبر انقلاب اسلامی نے امریکی حکومت کی ماہیت کے پیش نظر اس نکتے کی بھی یاد دہانی کرائی ہے کہ ایران ایٹمی مسئلے کے سوا ، وہ بھی خاص وجوہات کی بنا پر، شام یا کسی بھی دوسرے موضوع پر امریکہ کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات نہیں کرے گا-





ٹیگس