Jan ۲۲, ۲۰۱۶ ۱۸:۱۵ Asia/Tehran
  • اسرائیل کے توسییع پسندانہ اور پرتشدد اقدامات پر شدید ردعمل

غاصب صیہونی حکومت نے فلسطینی علاقوں میں اپنے توسیع پسندانہ اور پرتشدد اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔

موصولہ خبروں کے مطابق غاصب اسرائیل نے 2015 میں 2200 فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا ہے۔ فلسطینی قیدیوں کی رہائی سے متعلق کمیٹی کے سربراہ عیسی قراقع نے گذشتہ روز جمعرات کے دن اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت نے 2015 میں بائیس سو فلسطینی بچے گرفتار کئے ہیں۔ عیسی قراقع نے 2016 کے سال کو صیہونی جیلوں میں قید فلسطینی خواتین اور بچوں سے اظہار یکجہتی کا سال قرار دیا ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا اس وقت بھی صیہونی جیلوں میں 450 سے زیادہ فلسطینی بچے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ مختلف اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کی طرف سے فلسطینی عوام من جملہ بچوں کو جبر و تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھانے میں صیہونی حکومت کسی بھی حربے سے دریغ نہیں کرتی اور وہ اس حوالے سے کسی حد و حدود کی بھی قائل نہیں ہے۔

غاصب صیہونی حکومت کی پر تشدد کارروائیوں اور توسیع پسندی کے خلاف عالمی ردعمل کا سلسلہ جاری ہے ۔حال ہی میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے غرب اردن کی زرخیز زمینوں پر صیہونی قبضے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے بیان میں آیا ہے کہ اگر مغربی کنارے کی ان فلسطینی زمینوں پر اسرائیل کا قبضہ ہو جاتا ہے تو یہ 2014 تک کی فلسطینی تاریخ کا سب سے بڑا قبضہ ہو گا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ صیہونی کالونیوں کی تعمیر عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ادھر غاصب صیہونی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ صیہونی کالونیوں کی تعمیر اور توسیع کے لئے غرب اردن کی 370 ہیکٹر اراضی پر قبضہ کرے گی۔ گزشتہ مہینوں میں غاصب اسرائیل کی پر تشدد اور توسیع پسندانہ سرگرمیاں اپنے عروج پر رہی ہیں۔ غاصب اسرائیل کے ان اقدامات پر فلسطینی حکام، شخصیات نیز اقوام متحدہ نے بارہا اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں اس غاصب حکومت کو خبردار بھی کیا ہے۔ غاصب صیہونی کے حالیہ اقدامات اس بات کی نشاندھی کرتے ہیں کہ یہ غاصب حکومت اپنے توسیع پسندانہ اور پر تشدد اقدامات کے لئے مواقع کی تلاش میں رہتی ہے۔ یہ جعلی حکومت فوجی نقل و حرکت، امن و صلح کے دعووں اور ڈراموں سمیت مختلف طریقوں سے اپنے مذموم مفادات کے درپے رہی ہے۔

فلسطین کے نہتے عوام کے خلاف غاصب صیہونی حکومت کے توسیع پسندانہ اور ظالمانہ اقدامات عالمی اداروں کے فیصلوں بالخصوص جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری اس وقت صیہونی ظلم و ستم کی طرف متوجہ ہے اور اس پر اپنا ردعمل بھی ظاہر کر رہی ہے۔ غاصب صیہونی حکمت کی طرف سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مخالفت اور عالمی کنونشنوں کی مسلسل خلاف ورزیوں نے عالمی برداری کو اس غاصب حکومت کے خلاف آواز اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے ۔

دوسری طرف امریکہ اور مغربی ممالک کی اسرائیل کے منفی اقدامات کی حمایت نیز اقوام متحدہ کا شکست خوردہ رویہ اس بات کا باعث بنا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور اس عالمی ادارے کی مرتب کردہ تحقیقاتی رپورٹوں پر عمل درآمد نہ ہو سکا اور ان قراردادوں پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے غاصب صیہونی حکومت مذید جری ہو گئی ہے۔

غاصب صیہونی حکومت کے وحشیانہ اقدامات فلسطینیوں کی نسل کشی اور انسانیت کے خلاف کھلے جرا‏ئم کے مصداق ہیں اور حال ہی میں ان میں اضافے نے پوری دنیا کے انسانوں کے دلوں کو مجروح کر دیا ہے۔

غاصب صیہونی حکومت کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ اس نے مظلوم فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے ایسے پہاڑ ڈھائے ہیں جن کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ فلسطینی تاریخ اس طرح کے ظلم و تشدد سے پر نظر آ رہی ہے۔ ان ظالمانہ اقدامات کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ صیہونی حکومت نے فلسطینیوں کے خلاف انتہائی ظالمانہ،وحشیانہ اور غیر انسانی اقدامات انجام دئیے ہیں اور وہ فلسطینیوں کے ہر طرح کے حقوق کی پامالی کے راستے پر گامزن ہے۔ ان حالات میں غاصب صیہونی حکومت کے مظالم کے حوالے سے عالمی برادری کے سنجیدہ اقدامات میں کسی قسم کی سستی و کوتاہی مظلوم فلسطینیوں کو مزید خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔

ٹیگس