Mar ۱۷, ۲۰۱۶ ۱۳:۰۱ Asia/Tehran
  • بحرینی شہریوں کے بنیادی ترین حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری

بحرین میں آل خلیفہ کی شاہی حکومت کی جانب سے شہریوں کے بنیادی حقوق کو پامال کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور حکومت کے سیاسی مخالفین کو ملک سے باہر نکالا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی یورپی - بحرینی تنظیم نے کہا ہے کہ آل خلیفہ کی حکومت بحرین میں عوامی تحریک کے آغاز سے لے کر اب تک دو سو اسی بحرینی باشندوں کی شہریت منسوخ کر چکی ہے۔

انسانی حقوق کی یورپی - بحرینی تنظیم کے سیکریٹری جنرل حسین جواد پرویز نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ دو ہزار گیارہ میں بحرین میں عوامی تحریک کے آغاز سے لے کر اب تک دو سو اسی بحرینی باشندوں کی شہریت منسوخ کی جا چکی ہے۔ کسی بھی ملک کے باشندوں کی شہرینت منسوخ کرنا تمام بین الاقوامی قوانین خاص طور پر شہری حقوق کے منشور کے خلاف ہے کہ جس کی بحرینی حکومت نے بھی دو ہزار چھے میں توثیق کی ہے۔

بحرینی حکومت نے گزشتہ دس سال کے دوران ملک میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے اور اہل تشیع کو اقلیت میں لانے کے لیے کہ جن کی ملک میں اکثریت ہے، دوسرے ملکوں سے بہت سے لوگوں کو بحرین میں لا کر انھیں اس ملک کی شہریت دی ہے جن میں سب سے زیادہ افراد کا تعلق ہندوستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے ہے۔

بحرین میں برسر اقتدار آل خلیفہ کی شاہی اور استبدادی حکومت نے بحرینی مخالفین کو کچلنے کا سلسلہ حالیہ مہینوں کے دوران تیز کر دیا ہے اور آل خلیفہ حکومت کی عدالتوں نے گزشتہ مہینے کے دوران اڑسٹھ بحرینی باشندوں کو تین سو اٹھائیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ مہینے ستاسی سرگرم سیاسی کارکنوں کو ملک کے مختلف علاقوں سے گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔

واضح رہے کہ آل خلیفہ کی شاہی حکومت عوام کے خلاف وحشیانہ اقدامات میں شدت لا کر نہ صرف یہ کہ انھیں خاک و خون میں غلطاں کر رہی ہے بلکہ بحرینی باشندوں کی شہریت منسوخ کر کے انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی بھی کر رہی ہے کہ جس نے آل خلیفہ حکومت کی آمرانہ اور استبدادی ماہیت کو پہلے سے زیادہ عیاں کر دیا ہے۔

بحرین کی ڈکٹیٹر حکومت نے اس ملک کے عوام کو آزادی بیان، پرامن مظاہروں اور سیاسی جماعتوں کی تشکیل جیسے اپنے تمام حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔ بحرینی عوام کے خلاف تشدد آمیز اقدامات کو قانونی جواز دینے کے لیے آل خلیفہ حکومت کے اقدامات اور لوگوں کے حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزی جاری رہنے کی وجہ سے بحرینی عوام کے احتجاج میں اضافہ ہوا ہے۔

آل خلیفہ کی شاہی حکومت عوامی تحریک کو کنٹرول کرنے اور مخالفین کو سیاسی و سماجی میدان سے باہر نکالنے کے لیے ہر پالیسی اور ہتھکنڈا استعمال کر رہی ہے اور حکومت کے مخالفین کی شہریت کو منسوخ کرنے کی پالیسی کا بھی اسی تناظر میں جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

بحرینی باشندوں کی شہریت منسوخ کرنا اور غیرملکی باشندوں کو بحرین کی شہریت دینا بھی سیاسی محرکات کے تحت انجام پا رہا ہے کہ جس کا مقصد اس ملک کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔

آل خلیفہ کی شاہی حکومت کی جانب سے بحرینی عوام کی شہریت کو منسوخ اور انھیں اپنے وطن میں زندگی گزارنے کے حق سے محروم کرنا انسانی حقوق کے معیارات کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ ایسے وقت میں انجام پا رہی ہے کہ جب اقوام متحدہ نے اس استبدادی حکومت کے ان اقدامات پر مسلسل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

ایسے حالات میں بحرین کے سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں نے دوسرے ملکوں کے شہریوں کو بحرین کی شہریت دینے کے سلسلے میں آل خلیفہ حکومت کی سازشوں کے بارے میں خبردار کیا ہے اور غیرملکیوں کو اس ملک کی شہریت دینے کا مقصد بحرین میں ایک متبادل قوم تیار کرنا قرار دیا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحرینی عوام کے خلاف آل خلیفہ کی اس سازش کو روکنے کے لیے اقدام کرے۔

ٹیگس