اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی قرارداد سیاسی اور ناقابل قبول: ایران
ایران نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران کے خلاف منظور ہونے والی قرارداد سیاسی اور ناقابل قبول ہے۔
سحرنیوز/ایران: ارنا کی رپورٹ کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں ایران کے نمائندہ دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران جنیوا میں ایران کے بارے میں منعقدہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی اجلاس اور اس اجلاس میں پاس ہونے والی قرارداد کو آشکارا سیاسی اقدام اور انسانی حقوق کے تئیں حقیقی تشویش سے عاری سمجھتا ہے اور اسے مسترد کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ قرارداد پیش کرنے والے، ایرانی عوام کے حقوق کے تئیں تشویش کا اظہار کرنے میں سچّے نہیں ہیں ورنہ وہ ایران پر غیر انسانی پابندیاں مسلط نہ کرتے جن کے ذریعہ بنیادی حقوق شدید طور پر پامال ہو رہے ہیں اور اگر سچّے ہوتے تو 5 ہزار سے زیادہ ایرانیوں کے قتل اور زخمی ہونے کا سبب بننے والی غاصب اسرائیلی حکومت کی جارحانہ جنگ کو نظر انداز نہیں کرتے۔
قابل ذکر ہے کہ جمعہ کے روز جنیوا میں ایران کے بارے میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے اختتام پر کونسل نے سیاسی، غیر سنجیدہ اور جلد بازی کا اقدام کرتے ہوئے آئس لینڈ، جرمنی، شمالی مقدونیہ، مالدووا اور برطانیہ کی پیش کردہ قرارداد کو منظور کرلیا۔
اطلاعات کے مطابق اس سیاسی قرارداد کے حق میں 25 ممالک نے ووٹ دیا اور 7 ممالک نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ 14 ممالک نے اس قرارداد کی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ ایک ملک موریشس اجلاس سے غیرحاضر رہا۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channe
چین، کیوبا، ہندوستان، پاکستان، انڈونیشیا، عراق اور ویتنام نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا اور انگولا، مصر، ایتھوپیا، برازیل، گیمبیا، برونڈی، قطر، آئیوری کوسٹ، جنوبی افریقہ، تھائی لینڈ، کینیا، ملاوی اور ڈیموکریٹک جمہوریہ کانگو نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔