May ۰۱, ۲۰۱۶ ۱۹:۱۳ Asia/Tehran
  • افغان فوج کا طالبان کے خلاف وسیع آپریشن

افغان وزارت دفاع نے اٹھارہ صوبوں میں طالبان کے خلاف وسیع پیمانے پر فوج کے آپریشن کی خبر دی ہے۔

افغانستان کی سیکورٹی فورسز کے اہلکار توپخانے اور بحریہ کی مدد سے یہ آپریشن کر رہے ہیں اور یہ آپریشن ایسے علاقوں میں انجام دیا جا رہا ہے جہاں طالبان کے عناصر نے اپنی سرگرمیوں میں شدت پیدا کر دی ہے اور وہ دوبارہ ان علاقوں کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کے لئے کوشاں ہیں۔

افغان فوج نےاس سے قبل شفق کے نام سے طالبان کے خلاف اپنے آپریشن کا آغاز کیا تھا جو کہ اس ملک کے حکام اور فوج کے مطابق کامیاب آپریشن تھا۔افغان حکومت کی طالبان کے ساتھ آشتی پر مبنی پالیسی طالبان کے ساتھ جنگ میں تبدیل ہونے کے بعد اٹھارہ صوبوں میں طالبان کے خلاف افغان فوج کے آپریشن کا آغاز قابل توجہ ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے حال ہی میں اپنے ملک کی وزارت دفاع کے حکام سے کہا ہے کہ وہ زمین اور فضا سے طالبان پر بھرپور حملے کریں۔

طالبان نے افغان صدر کی اس اپیل کا ایک طرح سے مذاق اڑایا ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ طالبان کے ساتھ جنگ کریں۔ طالبان کے اس موقف کے پیش نظر اٹھارہ صوبوں میں طالبان کے خلاف شروع کیا جانے والا آپریشن مسلح مخالفین کے خلاف افغانستان کے فوجیوں کی طاقت کا مظاہرہ بھی شمار ہوتا ہے۔ طالبان نے اس وقت تک افغانستان امن مذاکرات میں شریک ہونے سے انکار کر دیا ہے جب تک غیر ملکی فوجی افغانستان سے نکل نہیں جاتے۔ اس کے علاوہ طالبان نے مذاکرات میں شرکت کے لئے بعض دوسری شرائط بھی رکھی ہیں۔

طالبان نے بارہ اپریل سے عمری کے نام سے اپنے حملے شروع کئے ہیں اور کہا ہےکہ وہ سرکاری مراکز پر اپنے حملوں میں شدت پیدا کریں گے۔ طالبان بم دھماکوں اور ٹارگٹ حملوں میں شدت پیدا کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ طالبان نے تقریبا ستّر افراد کے مارے جانے پر منتج ہونے والے حالیہ بم دھماکے کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے وعدوں پرعمل کرنے کے لئے حتی عام شہریوں پر بھی رحم نہیں کرتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اٹھارہ صوبوں میں فوج کا آپریشن ایک طرح سے افغان عوام کو فوجیوں کی صلاحیتوں کے سلسلے میں اعتماد دلانا ہے۔ افغانستان کی فوج ، کہ جس کو حال ہی میں لڑاکا ہیلی کاپٹر سے بھی لیس کیا گیا ہے، اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہےکہ افغان فوج کی طاقت کے بارے میں طالبان کے اندازے غلط ہیں اور اس ملک کے فوجی اب ہر طرح کے فتنہ و فساد کو ختم کرنے اور مسلح جھڑپوں میں کامیاب ہونے کی قدرت رکھتے ہیں۔

صوبہ قندوز میں افغانستان کی اسپیشل فورس کے اہلکاروں کے داخلے اور اس صوبے میں طالبان کا صفایا کئے جانے کی وجہ شمالی افغانستان میں اس گروہ کے حملوں میں بہت زیادہ حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ افغانستان کے چیئرمین چیفس آف آرمی اسٹاف نے پاکستان کو جو خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے افغانستان میں فوجی مداخلت کی تو افغانستان بھی اس کے خلاف ویسی ہی جوابی کارروائی کرے گا تو اس کا بھی اسی تناظر میں جائزہ لیا جانا چاہئے۔

بہرحال جنوبی افغانستان کے باشندوں کی جانب سے، کہ جن کی اکثریت پختونوں پر مشتمل ہے، فوج کے طالبان مخالف آپریشن کی حمایت طالبان کے مقابلے میں افغان فوجیوں کے حوصلےبلند ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں یہ تاثر پایا جاتاہے کہ افغانستان کی فوج میں شامل پختون فوجی، طالبان کے ساتھ لڑنے پر مائل نہیں ہیں کیونکہ طالبان کا تعلق بھی پختونوں سے ہے۔

افغان عوام خصوصا پختونوں کا کہنا ہے کہ اپنے آپ کو پختون سمجھنے والے طالبان نے جنگ میں شدت پیدا کر کے اس ملک کے عوام پر بھاری اخراجات کا بوجھ ڈال دیا ہے اور اس سے افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی جاری رہنے کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک کے سابق صدر حامد کرزئی اور موجودہ صدر اشرف غنی نے کہ جو خود بھی پختون ہیں، طالبان سے کہا ہے کہ وہ اغیار کے آلۂ کار نہ بنیں اور افغان بچوں کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کے امن عمل میں شریک ہوجائیں۔

ٹیگس