May ۲۵, ۲۰۱۶ ۱۷:۵۷ Asia/Tehran
  • افغانستان: طالبان کی انتقامی کاروائیوں پر تشویش

افغاں طالبان کے نئے سرغنے کے تعین کےبعد افغاں حلقوں نے طالبان کی انتقامی کاروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

افغانستان کے طالبان کی جانب سے اپنے سرغنے ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق اور نئے سرغنے کے تعین کے بعد صوبہ قندوز اور بلخ کے گورنر کے آفس کے انچارج نے طالبان کے حملوں میں تیزی آنے یہاں تک کہ شہر قندوز پر طالبان کے دوبارہ قبضے کی بابت خبردار کیا ہے۔ صوبہ قندوز کے گورنر اسد اللہ عمر خیل نے خبردار کیا ہے کہ اس امر کے پیش نظر کہ طالبان کے پاس کافی ہتھیار ہیں ایک بار پھر شہر قندوز پر طالبان کے قبضے کا خطرہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کے فوجی کمانڈر جان نیکلسن سے ملاقات میں کہا کہ طالبان نے گذشتہ برس شہر قندوز پر قبضے کے بعد شہر میں موجود بہت سے ہتھیاروں پر قبضہ کرلیا تھا۔ ادھر بلخ میں گورنرآفس کے انچارج عطا محمد نور نے کہا ہےکہ طالبان کے سرغنے ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد حکومت اور بیرونی افواج کے خلاف طالبان کے انتقامی حملوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ تقریبا دس مہینے قبل بھی جبکہ طالبان کے سرغنے ملا عمر کی ہلاکت کی خبریں سامنے آئی تھیں کچھ دنوں کے بعد ملا اختر منصور کی سرکردگی میں افغانستان کے وسیع علاقوں میں حملے شروع ہوگئے تھے، یہ حملے صوبہ قندوز میں بھی ہوئے تھے۔ ان حملوں سے طالبان نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ حکومت افغانستان سے مقابلہ کرنے کی بھرپور طاقت اور اتحاد کے حامل ہیں۔ اسی بنا پر افغانستان کے حکام کو یہ تشویش لاحق ہے کہ طالبان گروہ ملا اختر کے ایک معاون ہیبت اللہ آخوند زادہ کو اپنا نیا سربراہ معین کرنے کے بعد ملا اختر منصور کے قتل کا انتقام لینے کے لئے وسیع پیمانے پر حملے کریے گا۔ اس امر کے پیش نظر کہ یہ کہا جارہا ہے کہ ہیبت اللہ آخوند زادہ طالبان کے بعض دینی مدارس کے مہتمم رہ چکے ہیں اور اپنے شاگردوں پر جو طالبان کے بنیادی عناصر ہیں اثر و رسوخ کے حامل ہیں، اسی بنا پر وہ مستقبل میں طالبان کی پوزیشن پر اہم اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ افغانستان کے حکام کو امید ہے کہ طالبان کا نیا سرغنہ ملا اختر منصور کی جنگ پسندانہ پالیسیوں سے عبرت حاصل کرکے افغانستان میں قیام امن کے لئے صحیح اور منطقی پالیسیاں اپنائے گا اور اس عمل میں مدد کرےگا بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ کہا جاتا ہےکہ ہیبت اللہ آخوند زادہ کی شخصیت کا مذہبی پہلو ان کے سیاسی پہلوؤں پر غلبہ رکھتا ہے اور افغانستان کے قومی، مذہبی اور سیاسی عمائدین ان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ طالبان کو صحیح اور انسانی اقدار پر چلا کر نہ صرف افغانستان میں قتل عام کا سد باب کریں گے بلکہ ملک کے مستقبل کےبارے میں ان کی تشویشیں بھی دور کریں گے اور ان کی سربراہی میں طالبان افغانستان کے امن پراسس میں اہم اور موثر رول ادا کریں گے۔

بہر صورت طالبان افغانستان کی حکومت اور عوام کے سامنے اہم ترین چیلنج ہے اور افغانستان کے صدور نے ہمیشہ طالبان کو غیر ملکی پٹھو قراردیا ہے اور اس گروہ سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان کی سکیورٹی اور قومی ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک میں قیام امن کے عمل میں شریک ہوجائیں اور اس بات کا سبب نہ بنیں کہ بیرونی دشمن افغانی کو افغانی کے ہاتھوں قتل کرواکر اپنی مذموم پالیسیوں پر عمل درامد کرسکیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق چونکہ تمام قومیں اور سیاسی مذہی گروہ قیام امن کے عمل کی حمایت کررہے ہیں اور اس سلسلے میں قومی اتفاق رائے بھی پایا جاتا ہے لھذا طالبان اور ان کے نئے لیڈر کو قیام امن کے عمل میں شریک ہونے کے لئے اس مناسب موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور افغانستان میں اپنی پوزیشن کو بہتر بناتے ہوئے خاص طور سے پشتون قوم کی حمایت حاصل کرلینی چاہیے۔

ٹیگس