Jul ۲۷, ۲۰۱۶ ۱۸:۰۴ Asia/Tehran
  • کابل کا سہ فریقی اجلاس

کابل میں افغانستان، نیٹو اور پاکستان کا سہ فریقی سیکورٹی اجلاس تشکیل پایا۔ افغانستان کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اس اجلاس میں، جس میں افغانستان کی وزارت دفاع کی آپریشنل کمان کے سربراہ محمد حبیب حصاری، نیٹو اور پاکستان کی فوج کے کمانڈرز شریک ہو‏ئے، علاقے کے سیکورٹی مسائل اور دہشت گردی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس اجلاس میں علاقے کے سیکورٹی مسائل، حل کئے جانے کی کوشش کے بارے میں اتفاق رائے بھی کیا گیا۔ افغانستان کی وزارت دفاع نے اس اجلاس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں تاہم اس سے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ اس اجلاس کے زیربحث موضوعات میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی اختلافات کا مسئلہ بھی شامل ہے۔

کابل میں یہ سہ فریقی اجلاس، ایسی حالت میں تشکیل پایا کہ حالیہ ہفتوں کے دوران افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ کچھ دنوں قبل افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے نیٹو کے سربراہی اجلاس میں کہا تھا کہ پاکستان، طالبان کے دھڑوں میں تفریق کا قائل ہے اور طالبان کی اچھے اور برے دھڑوں میں اس کی تقسیم کے نتیجے میں افغانستان اور پورے علاقے میں دہشت گردی کے خلاف مہم سے متعلق کوششیں شکست سے دوچار ہوئی ہیں۔

انھوں نے گذشتہ ہفتے کابل میں ہونے والے دہشت گردانہ بم دھماکے کے بعد بھی کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ افغانستان کے تعلقات، حکومت کابل کے لئے طالبان اور القاعدہ سے بھی بڑے مسئلے میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ محمد اشرف غنی نے پاکستان کو اس دہشت گردانہ بم دھماکے کا براہ راست ذمہ دار تو قرار نہیں دیا تاہم افغانستان کے صدر کی گفتگو کے لب و لہجے سے پتہ چل رہا تھا کہ افغانستان، اس بم دھماکے کا ذمہ دار پاکستان کو ہی سمجھتا ہے۔

ایسی حالت میں کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کافی کشیدہ چل رہے ہیں، کابل کے سیکورٹی اجلاس کی کامیابی کے بارے میں غیر یقینی صورت حال پائی جاتی ہے۔ ان دونوں ملکوں کے درمیان کچھ عرصے قبل تورخم سرحد پرجھڑپیں بھی ہوئی ہیں اور دونوں ہی ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر مشترکہ سرحدوں کو کنٹرول نہ کئے جانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

افغانستان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے، طالبان گروہ کے لئے محفوظ پناہ گاہ میں تبدیل ہو گئے ہیں اوراسلام آباد کی حکومت افغانستان سے ملنے والی مشترکہ سرحدوں کی صحیح طرح سے نگرانی نہیں کر رہی ہے جس کے نتیجے میں دہشت گرد عناصر بآسانی پاکستان سے افغانستان میں داخل ہو رہے ہیں جبکہ کابل کی حکومت، پاکستان کے علاقوں سے افغانستان پر ہونے والے میزائل حملوں کو بھی حکومت اسلام آباد کی غیرشفاف اور دشمنانہ پالیسیوں کا نتیجہ سمجھتی ہے۔

ادھر پاکستان کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں دہشت گرد عناصر افغانستان سے ہی آتے ہیں جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ افغانستان کی فوج، مشترکہ سرحدوں کو کنٹرول نہیں کر پا رہی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری سرحدی تنازعہ سے صرف دہشت گرد فائدہ اٹھا رہے ہیں جنھوں نے پاکستان و افغانستان، دونوں ہی ملکوں میں بدامنی پھیلا رکھی ہے۔ بنابریں اس بات کی توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ کابل کے سہ فریقی سیکورٹی اجلاس کا مشترکہ تعاون اور سیکورٹی امور میں تبادلہ خیال سے بڑھکر کوئی نتیجہ برآمد ہوگا۔

ٹیگس