May ۱۸, ۲۰۱۷ ۱۷:۳۱ Asia/Tehran
  • امریکی صدر  کے دورۂ سعودی عرب کے اہداف

ڈونلڈ ٹرمپ صدارت کا عہدہ حاصل کرنےکے بعد اپنا پہلا غیرملکی دورہ کرتے ہوئے کل جمعے کے دن سعودی عرب روانہ ہوں گے۔ سعودی عرب کے بعد وہ مقبوضہ فلسطین جائیں گے تاکہ ریاض اور تل ابیب کے تعلقات کے راستہ ہموار کریں۔

ٹرمپ کے سعودی عرب اور اس کے بعد اسرائیل کے دورے کو بہت ہی علامتی قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکہ کے سابقہ صدور اپنا پہلا غیر ملکی دورہ کرتے ہوئے کسی یورپی ملک کا رخ کرتے تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیشرووں کے برخلاف اپنےپہلے غیر ملکی دورے کے لئے سعودی عرب کا انتخاب کیا ہے۔ ٹرمپ ایسی حالت میں سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں کہ گزشتہ برس اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے سعودی عرب کو تیل کی خریداری کا سلسلہ بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔ بہرحال سعودی عرب نے امریکی صدر کے لئے جو پیکیج تیار کر رکھا ہے وہ اتنا بڑا ہے کہ امریکی حکومت ریاض کی جانب سے داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کی حمایت کئے جانےاور سعودی  عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہونے جیسے موضوعات کی بنا پر بھی اس پیکیج کو نظر انداز نہیں کرے گی۔

کہا جارہا ہے کہ ٹرمپ کے دورۂ سعودی عرب کے موقع  پر فریقین کی مشترکہ سرمایہ کاری اور اسلحے کی خرید و فروخت کے سلسلے میں تین سو ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں پر دستخط کئے جائیں گے۔ اتنے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی خرید و فروخت حالیہ برسوں کے دوران شاذ و نادر ہی ہوئی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب سعودی عرب کو اس وقت تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں کمی اور بری اقتصادی مینیجمنٹ کی بنا پر شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکی حکومت کی اولین ترجیح سعودی عرب کے سیکڑوں ارب ڈالروں کو حاصل کرنا ہے۔ ٹرمپ نے صدارتی انتخابات سے پہلے اور بعد میں بارہا کہا ہے کہ امریکہ کے اتحادیوں کو اپنی سیکورٹی کے اخراجات امریکی حکومت کو ادا کرنا ہوں گے۔ اس سلسلے میں وائٹ ہاؤس نے مشترکہ سرمایہ کاری اور ہتھیاروں کی فروخت کی صورت میں کئی سو ارب ڈالر کا بل تیار رکھا ہے جو ٹرمپ کے دورۂ سعودی عرب کے موقع پر وصول کیا جائے گا۔

ٹرمپ کے ریاض کے بعد تل ابیب کا دورہ کرنے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ نئی امریکی حکومت کے مطلوبہ مشرق وسطی میں سعودی عرب اور صیہونی حکومت کو دو اتحادیوں کی طرح رہنا ہوگا۔  سعودی حکام نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے سلسلے میں اسلامی اور عرب دنیا کے درمیان پل کا کام انجام دینے کی ذمےداری اٹھائی ہے۔ ریاض میں امریکی صدر کے ساتھ خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کے سربراہوں نیز بعض اسلامی ممالک کے سربراہوں اور نمائندوں کی ملاقاتیں کرانا امریکہ کی نئی حکومت کی خارجہ پالیسی سے متعلق سعودی حکام کو سونپے جانے والے نئے رول کا ایک حصہ ہے۔

اس کے باوجود ذرائع ابلاغ جس چیز کو مغربی ایشیا کے علاقے میں عرب نیٹو کا نام دے رہے ہیں اس کا عملی شکل اختیار کرنا بہت ہی بعید لگتا ہے۔ جزیرۂ نمائے عرب کے ممالک کے درمیان ظاہری طور پر نظر آنے والے اتحاد کے برخلاف ان ممالک کے باہمی اختلافات اس قدر گہرے ہیں کہ اسلامی اور عرب ممالک کا نیٹو جیسا اتحاد قائم کرنے کا  کوئی امکان نہیں ہے۔ اس کے علاوہ عراق، شام اور یمن کے جنگی تجربات سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہےکہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک فوجی اتحاد قائم کرنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔

البتہ امریکی حکام مغربی ایشیا کے علاقے میں اپنے اثر و رسوخ میں کمی لانے کا مطالبہ تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے کندھوں پر زیادہ ذمےداریاں ڈالنے کے درپے ہیں۔لیکن اس علاقے میں دوسری طاقتیں بھی موجود ہیں جس کی وجہ سے سعودی عرب اپنی من مانی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے چاہے اسے امریکہ اور یورپ کے کئی سو ارب ڈالر کی مالیت کے ہتھیار بھی کیوں نہ حاصل ہوجائیں۔

 

ٹیگس