افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر کی ہندوستانی ہم منصب سے ملاقات
افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر نے ماسکو سیکوریٹی اجلاس کے موقع پر اپنے ہندوستانی ہم منصب سے ملاقات کی ہے۔
افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر نے ماسکو سیکوریٹی اجلاس کے موقع پر اپنے ہندوستانی ہم منصب سے ملاقات کی ہے اس ملاقات میں دونوں ممالک کی سیکوریٹی فورسز کے درمیان مشترکہ اسٹرٹیجی اپنانے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر نے ماسکو میں منعقدہ آٹھویں سکیورٹی اجلاس میں ہندوستان کی قومی سلامتی کے مشیر آجیت آدووال سے ملاقات میں ہندوستان اور افغانستان کے درمیان سلامتی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے ۔
افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر نے اپنے ہندوستانی ہم منصب سے ملاقات میں افغانستان کی سیکوریٹی فورسز کو مضبوط بنانے کے لئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر اتفاق کیا ہے اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے حکام نے علاقے کی سلامتی کے مسائل سمیت دہشتگردی سے مقابلے کے لئے جامع حکمت عملی ترتیب دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کی وجہ سے کابل نئی دہلی سے اپنے تعلقات مزید بہتر بنانے کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان پاکستان کو یہ بتانا چاہ رہا ہے کہ وہ اسکے ایٹمی حریف ہندوستان سمیت کئی ملکوں سے تعلقات بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسکے لئے تمام دروازے کھلے رکھنے پر یقین رکھتا ہے اور اس حوالے سے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گا۔
کابل حکومت کئی بار اعلان کرچکی ہے کہ اس کی فوج کو دہشتگردی سے مقابلے کے لئے ہتھیاروں کی ضرورت ہے لیکن امریکہ اور نیٹو اس مطالبے پر کان دھرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔کابل حکومت کی کوشش ہے کہ وہ نئی دہلی سے اپنے تعلقات بہتر کرکے جدید ہتھیار خرید کر اپنی فوج کو مضبوط کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنائے۔نیٹو اور امریکہ نے کابل کے بار بار کے اصرار کے باوجود اسے ہتھیار فراہم نہیں کئے ہیں لہذا دوسرے مملک سے فوجی تعاون کا موضوع افغان حکومت کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ہندوستان کی طرف سے افغان حکومت کو فوجی امدار دینے پر آمادگی سے افغان حکومت کی خواہش ہے کہ وہ ہندوستان کی فوجی مدد سے اپنی فورسز کو طاقت ور بنائے۔