Aug ۳۱, ۲۰۱۷ ۱۸:۰۶ Asia/Tehran
  • فلسطین کی نجات ملت اسلامیہ کا اولین فریضہ

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے حجاج کرام کے نام اپنے اہم پیغام میں فلسطین کے دفاع اور اس کی نجات کو ملت اسلامیہ کا حتمی فریضہ قرار دیا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے جمعرات کی صبح اس پیغام میں اتحاد کے قیام، اقوام کو آگاہ کرنے اور اسلامی ممالک میں رونما ہونے والے تلخ واقعات کی فوری طور پر روک تھام کرنے کو اسلامی ممالک کے سربراہوں اور عالم اسلام کے تمام دانشوروں کا فریضہ قرار دیا اور تاکید فرمائی کہ فلسطین کا دفاع اور ستّر برس سے اپنے غصب شدہ ملک کے لئے جد و جہد کرنے والی ملت کا ساتھ دینا اسلامی دنیا کا اہم ترین فرض ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے صراحت کے ساتھ فرمایا کہ صیہونی حکومت اسلامی دنیا کے قلب میں سازشوں میں مصروف ہے، اسلامی دنیا فلسطین کی نجات کے اپنے فرض سے غافل ہے اور اسے شام، عراق، یمن، لیبیا اور بحرین میں خانہ جنگی نیز افغانستان اور پاکستان وغیرہ میں دہشت گردی کا سامنا ہے۔

کچھ برسوں سے اسلامی ممالک منظم سازشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی اور سیکورٹی بحران سے دوچار ہیں۔دشمن ہمیشہ سے دین اسلام کی غلط تشریح کرنے کے حربے سے ملت اسلامیہ کے اندر اختلافات پیدا کرتے رہے ہیں۔ دین اسلام کی انہی مختلف طرح کی تشریحات کے نتیجے میں مختلف دہشت گرد اور انتہاپسند گروہ وجود میں لائے گئے اور شام، یمن اور لیبیا سے لے کر افغانستان تک کے مختلف اسلامی ممالک  کو دہشت گردی اور بدامنی میں مبتلا کر دیا گیا۔ اس دہشت گردی اور بدامنی کی جڑ امریکہ اور صیہونی حکومت کی خفیہ ایجنسیاں ہیں۔

انہی خفیہ ایجنسیوں نے شام وعراق اور اس کے بعد افغانستان میں تکفیری صیہونی دہشت گرد گروہ داعش کا اثر و رسوخ بڑھایا۔ ان ایجنسیوں کا مقصد یہ تھا کہ اسلامی حکومتیں اور اقوام دہشت گردی میں الجھ کر رہ جائیں اور وہ اسلامی دنیا کے سب سے اہم مسئلے سے غافل ہوجائیں۔ فلسطینی عوام تقریبا ستّر برس سے غاصب صیہونی حکومت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ مسئلہ فلسطین سے جس قدر زیادہ توجہ ہٹے گی اسی قدر اسلامی دنیا کی جغرافیائی حدود میں غاصب صیہونی حکومت کو تحفظ حاصل ہوگا۔

انتفاضہ کی صورت میں فلسطینیوں کی استقامت اسرائیل کی بقا کے لئے بہت بڑا خطرہ شمار ہوتی ہے۔ ان حالات میں صیہونی حکام اور ان کے حامی خصوصا امریکہ مسئلہ فلسطین سے رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ دریں اثناء بعض عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے کوشاں ہیں اور یہ کام اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں کے ایجنڈے کے مطابق انجام پا رہا  ہے۔

اسلامی دنیا پر حکمفرما موجودہ صورتحال اور مسئلہ فلسطین پر سے توجہ ہٹانے پر مبنی صیہونیوں کی کوششوں کے پیش نظر اسلامی ممالک میں دشمنوں کی جانب سے کی جانے والی مذموم سازشوں سے مقابلے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ملت اسلامیہ کے اندر افہام و تفہیم پیدا کی جائے اور اتحاد وجود میں لایا جائے۔ اس سلسلے میں حج کے ایام ملت اسلامیہ کے لئے ایک بے نظیر موقع  ہے۔ ان ایام میں ملت اسلامیہ اپنے بعض اندرونی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر، اقوام کو بیدار کر کے اور متحد ہو کر ایک ایسی طاقت وجود میں لا سکتی ہے جس کے ذریعے فلسطین سے لے کر شام، یمن، بحرین اور افغانستان تک کے اسلامی ممالک میں رونما ہونے والے المناک واقعات کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے اسی تناظر میں عیدالاضحی کی مناسبت سے جمعرات کے دن اسلامی ممالک کی پارلیمانوں کے  اسپیکروں کے نام اپنے پیغام میں حج ابراہیمی کے مناسک کو مسلمانوں کے اتحاد و یکجہتی کا مظہر قرار دیا اور لکھا ہے کہ حج کا ایک اہم ہدف اور فلسفہ مسلمانوں کے درمیان افہام و تفہیم پیدا اور بھائی چارہ قائم کرنا ہے اور حج کے عظیم مناسک کے دوران اختلافات و تفرقے سے اجتناب نیز اتحاد و بھائی چارے کے جذبے کی تقویت ملت اسلامیہ کی عصر حاضر کی ایک اہم ضرورت ہے۔

ٹیگس