May ۲۰, ۲۰۱۹ ۱۷:۵۵ Asia/Tehran
  • شام کے خلاف مغرب کی ایک اور سازش طشت ازبام

شام میں دوہزار گیارہ سے شروع ہونے والے بحران اور داخلی جنگ کے بعد سے شامی حکومت کے خلاف موقف اختیار کرنے اور اقدامات کرنے کا ایک بہانہ اس ملک کے مختلف علاقوں میں فوج کی جانب سے کیمیائی حملوں کا استعمال رہا ہے-

اس کی ایک واضح مثال مشرقی غوطہ کے شہر دوما میں آٹھ اپریل دوہزاراٹھارہ میں فوج کی جانب سے  کیمیائی حملے کرنے کا دعوی تھا - مغربی، عربی و صیہونی ذرائع ابلاغ نے ایک ساتھ مل کر کیمیائی حملوں کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا اور شروع سے ہی کوئی ثبوت پیش کئے بغیر شامی فوج کو ان حملوں کا ذمہ دار ٹھہرا دیا-  مشرقی غوطہ میں موجود دہشتگردوں نے دعوی کیا تھا کہ شامی فوج نے شہر دوما کو کیمیاوی ہتھیاروں کا نشانہ بنایا ہے- چند دنوں کے بعد کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے ادارے نے اپنی تحقیقات میں دوما میں کیلورین گیس کی موجودگی کی تصدیق بھی کر دی  لیکن اعصاب کو مفلوج کردینے والے کسی ایسے  ہتھیار یا مادے کو تلاش نہ کر سکے جس کا دعوی دہشتگرد کررہے تھے- اہم نکتہ یہ ہے کہ دہشتگرد گروہوں نے شام کے مختلف علاقوں میں کئی بار کیمیائی حملے انجام دینے کے لئے کیلورین گیس کا استعمال کیا اور مغربی ممالک  نے اسی کو بہانہ بنایا اور اس کی ذمہ داری شامی فوج پرڈال کر شام کی تنصیبات اور فوجی اڈوں پربمباری اور میزائلی حملے کر  کے انھیں تباہ کردیا-

اس سلسلے میں کیمیائی ہتھیاروں کے روک تھام کے ادارے کا بےبنیاد دعوی اس بات کا باعث بنا کہ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں یعنی برطانیہ اور فرانس نے تیرہ اپریل دوہزار اٹھارہ میں شام کے دس تحقیقاتی مراکز اور فوجی اڈوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا -

اس واقعے کو ایک سال سے زیادہ عرصہ گذرنے کے بعد کیمیاوی ہتھیاروں کے روک تھام کے ادارے او پی سی ڈبلیو کے معائنہ کار این ہنڈرسن نے اٹھارہ مئی کو اعتراف کیا کہ شام کے شہر دوما کے علاقے مشرقی غوطہ میں کیمیائی حملے کے بارے میں اس تنظیم کی رپورٹ حقائق کے مطابق نہیں ہے۔

این ہنڈرسن کی رپورٹ میں آیا ہے کہ دوما میں جائے وقوعہ کے معائنے اور چانچ پڑتال کی بنیاد پر، اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ کیمیائی گیسوں کے کیپسول اور کنستر آسمان سے نہیں گرائے گئے بلکہ لوگوں کے ذریعے زمین پر نصب کیے گئے تھے۔ اس سے پوری طرح واضح ہوجاتا ہے کہ دوما میں موجود دہشتگردوں نے ایک منظم سازش کے تحت شام پر مغربی ممالک کے حملوں کی زمین ہموار کرنے کے لئے یہ ڈرامہ رچا تھا اور اس سے کیمیائی ہتھیاروں کے سلسلے میں مغرب کے دہرے رویّے کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے- درحقیقت مغربی ممالک نے با رہا روس اور شام کی جانب سے دہشتگردوں کی  جانب سے کیمیائی حملے انجام دیئے جانے کے بارے میں پیش کی جانے والی رپورٹوں پرکبھی ردعمل نہیں دکھایا تاہم جب دہشتگرد گروہوں نے شام کی فوج کی جانب سے کیمیاوی حملے انجام دیئے جانے کا دعوی کیا تو فورا فوجی ردعمل دکھا دیا- مغربی ممالک نے شامی فوج اور عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے بار بار استعمال پر کبھی توجہ نہیں دی بلکہ وہ سرے سے ان حملوں کا ہی انکار کرتے رہے ہیں یا ان حملوں کی ذمہ داری شامی فوج پر ڈالتے رہے ہیں-

 امریکہ ، مغرب کا سرغنہ ہونے کی حیثیت سے ہمیشہ روس اور شام کے خلاف دباؤ بڑھانے کی غرض سے کیمیائی ہتھیاروں کے روک تھام کے ادارے کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور اس سلسلے میں اسے دیگر مغربی ممالک کا ساتھ حاصل رہا ہے- کیمیاوی ہتھیاروں کی روک تھام کے ادارے میں روس کے مستقل مندوب الکزینڈر شولگین کا کہنا ہے کہ : مغربی ممالک، دمشق اور ماسکو کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کو استعمال کئے جانے کے دعویدار ہیں جو جھوٹ اور شام میں میزائل حملے کرنے کا ایک بہانہ ہے-

 مغربی ممالک نے شام میں دہشتگرد گروہوں کے ذریعے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا جائزہ لینے کے لئے روس کی درخواست کو بارہا نظرانداز کیا ہے جبکہ شام میں دہشتگرد گروہوں کے لئے مغرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کیلورین گیس جیسے کیمیائی ہتھیار بنانے کے لئے لازمی مواد فراہم کرنے کے ناقابل انکار ثبوت و شواہد منظرعام پر آچکے ہیں-

ٹیگس