ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں بدامنی جاری، جاں بحق افراد کی تعداد 44 ہو گئی
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں احتجاج اور بدامنی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور مرنے والوں کی تعداد چوالیس تک پہنچ گئی ہے۔
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر سے موصولہ خبروں کے مطابق ہندوستانی فوج کی کارروائیوں میں مزید دو افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جس کے بعد جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد چوالیس ہو گئی ہے۔
ہمارے نمائندہ سری نگر کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے بعد بھی کشمیر میں صورتحال معمول پر نہیں آ سکی ہے اور ہفتے کے روز بھی کئی علاقوں سے احتجاج اور مظاہروں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
وادی کشمیر کے متعدد علاقوں میں کرفیو نافذ ہے اور سیل فون اور انٹرنیٹ سروس کے ساتھ ساتھ کیبل ٹیلی ویژن سروس بھی معطل کر دی گئی ہیں۔
کرفیو کے نفاذ کی وجہ سے کئی علاقوں میں اشیائے خورد و نوش کی قلت بھی پیدا ہو گئی ہے۔
میر واعظ عمر فاروق اور سید علی شاہ گیلانی سمیت سرکردہ علیحدگی پسند رہنما بدستور اپنے گھروں میں نظر بند ہیں۔ علیحدگی پسند رہنماؤں نے کشمیری عوام سے احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھنے کی بھی اپیل کی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ آٹھ جولائی کو حزب المجاہدین کے سینیئر کمانڈر برھان وانی کی موت کے بعد سے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں حالات کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔
ہندوستانی سیکورٹی فورس کے ہاتھوں برھان وانی کی موت کی خبر پھیلتے ہی ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو تاحال جاری ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم نے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے وہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کی مبینہ زیادتیوں پر خاموش نہ رہے۔ نواز شریف نے انیس جولائی کو یوم الحاق کشمیر اور بیس جولائی کو کشمیری عوام پر مبینہ ہندوستانی ظلم و ستم کے خلاف یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔
ہندوستان کی وزارت خارجہ نے کشمیر کی صورتحال پر پاکستان کے اعتراض کو مسترد کر دیا ہے۔
ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سورپ نے نئی دہلی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کے اندرونی معاملات میں پاکستان کی مستقل طور پر مداخلت مایوس کن ہے۔