ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں حالات بدستور کشیدہ
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں پرتشدد مظاہروں اور سیکورٹی فورس کے ہاتھوں دسیوں نوجوانوں کے جاں بحق ہونے بعد حالات بدستور کشیدہ ہیں۔
سری نگر سے موصولہ خبروں میں کہا گیا ہے کہ وادی میں گیارہویں روز بھی کرفیو نافذ ہے اور موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔
کرفیو کے نفاذ کے باوجود سیکڑوں کی تعداد میں لوگ خون کے عطیات جمع کرانے کے لیے اسپتال پہنچے ہیں۔ کشمیر میں گیارہ روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے دوران تین ہزار سے زائد افرا زخمی ہوئے ہیں اور اسپتالوں سے لوگوں سے خون کے عطیات دینے کی اپیل کی جا رہی ہے۔
اسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں روزانہ تقریبا تیس سے چالیس بیگ خون اور پلاسما کی ضرورت ہے۔
ہمارے نمائندہ سری نگر کے مطابق شہر میں کرفیو ختم نہیں کیا گیا ہے تاہم عام لوگوں کی رفت آمد شروع ہو گئی ہے۔
شہر میں دوکانیں اور کاروباری مراکز بدستور بند ہیں اور انٹر نیٹ اور ٹیلفون سروس بھی معطل ہے۔
ادھر شہر کے قاضی گنڈ علاقے سے احتجاج کی خـبریں موصول ہوئی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ پولیس کی فائرنگ میں دو خواتین سمیت چار افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔
ہندوستانی سیکورٹی فورس کے ہاتھوں حزب المجاہدین نامی تنظیم کے سرکردہ کمانڈر برھان وانی کی موت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران پچاس سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔