ہندوستان: کشمیر میں حالات بدستور کشیدہ، مرنے والوں کی تعداد ساٹھ سے زیادہ
-
ہندوستانی فوج نے کپواڑا کے علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران نوگام کے علاقے میں مزید چار کشمیریوں کو قتل کر دیا۔
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے شہر سرینگر سمیت وادی کے بیشتر علاقوں میں اٹھارہ روز تک نافذ رہنے والے کرفیو کو ختم کر دیا گیا۔
کشمیر عظمی کی رپورٹ کے مطابق کرفیو ختم ہونے کے بعد شہر سرینگر کے پائین علاقے کی سڑکیں ابل پڑیں اور کئی مقامات پر صبح سے ہی احتجاجی جلوس برآمد ہونا شروع ہو گئے جبکہ لال چوک کی جانب بڑھنے والے جلوس پر جہانگیر چوک کے نزدیک زبردست آنسو گیس کی شیلنگ ہوئی جس سے جلوس منتشر ہوا۔ اس دوران عیدگاہ کے نزدیک مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ کے باعث ایک ریٹائرڈ ملازم مشتاق احمد اپنے اسکوٹر سے گر کر زخمی ہو گیا اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔
اس دوران دن بھر جاری رہنے والے جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں سے مزاحمتی خیمے کی طرف سے ہڑتال میں نصف دن کے وقفے پر بھی اثرات مرتب ہوئے اور شہر خاص سمیت لال چوک میں بیشتر دکان اور تجارتی مراکز بند رہے تاہم سرینگر کے علاقے سول لائنز اور مضافات میں نجی گاڑیاں سڑکوں پر چلتی رہی۔ دن بھر جاری رہنے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران ایک لڑکی اور کچھ کمسن نوجوانوں سمیت پینتیس کے قریب مظاہرین زخمی ہوئے جبکہ ایک نوجوان کے سر میں آنسو گیس کا شیل لگا جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوا۔
ادھر بڈگام کے پکھر پورہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد مارچ کرتے ہوئے چرار شریف کی طرف پیش قدمی کرنے لگی جس کے دوران سربند کے مقام پر پولیس نے جلوس پر اندھا دھند فا ئر نگ کر دی جس کے نتیجے میں کئی افراد کو زخمی حالت میں سر ینگر منتقل کیا گیا۔ اس دوران گاندربل میں بھی کئی جگہوں پر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔
دوسری جانب ہندوستانی فوج نے کپواڑا کے علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران نوگام کے علاقے میں مزید چار کشمیریوں کو قتل کر دیا جس کے بعد حالیہ دنوں کے دوران جان بحق ہونے والے کشمیریوں کی تعداد ساٹھ سے بڑھ گئی ہے۔
پولیس نے وادی میں دن بھر کی صورتحال کو پرامن اور قابو میں قرار دیتے ہوئے کہا کہ بدھ کی صبح کو وادی کے تمام قصبوں اور شہر میں کرفیو کو ہٹایا گیا جبکہ اننت ناگ میں سہ پہر کو کرفیو ہٹایا گیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق کئی جگہوں پر دکانیں بھی کھل گئیں اورٹریفک کی نقل و حرکت بھی دیکھنے کو ملی۔ پولیس نے کہا کہ تمام مواصلاتی کمپنیوں کی پوسٹ پیڈ موبائل سروس کو بحال کر دیا جائے گا۔