Jun ۲۹, ۲۰۱۷ ۱۱:۰۰ Asia/Tehran
  • حریت کانفرنس کا امریکی فیصلے پر رد عمل

کشمیری قیادت نے سید صلاح الدین کوعالمی دہشت گرد قرار دیئے جانے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیرکی حریت کانفرنس کے رہنماوں سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے ایک بیان میں متحدہ جہاد کونسل اور حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو امریکہ کی جانب سے عالمی دہشت گرد قرار دینے کو بلا جواز اور قابل افسوس قرار دیاتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

حریت کانفرنس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی کودہشت گرد قرار دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا بلکہ اس مسئلہ کو اس کے تاریخی تناظر میں حل کرنے سے ہی ا س پورے خطے سے بے چینی اور غیر یقینی سیاسی صورتحال کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے جس کو عالمی برادری نے تسلیم کیا ہے لہٰذا اس مسئلہ کی حساسیت اور حیثیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اس مسئلہ سے جڑے تمام تاریخی حقائق کو نظر میں رکھ کر ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جس سے اس دیرینہ تنازعہ کو حل کرنے میں مدد مل سکے ۔

حریت کانفرنس کے بیان کے مطابق ہندوستان کی سیاسی قیادت نے1947 کے بعد سے مسئلہ کشمیرکو طاقت کے بل پر حل کرنے کی پالیسی اختیار کررکھی ہے جبکہ مسئلہ کشمیر صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔

حریت کانفرنس کا کہنا ہے کہ عالمی برادری، اقوام متحدہ، امریکہ اور برطانیہ نہ صرف مسئلہ کشمیر کی حقیقت سے واقف ہیں بلکہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے حوالے سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بامعنی مذاکراتی عمل کی بحالی پر بھی زور دیتے آئے ہیں اور کئی بار دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیش کش بھی کرچکے ہیں ۔

حریت کانفرنس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کا یہ اقدام ہر لحاظ سے افسوسناک ہے اور امریکہ جو انصاف، جمہوریت اور انسانی قدروں کا سب سے بڑا دعویدار ہے کس طرح کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے چشم پوشی کر رہا ہے جبکہ اس دوہرے معیار کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ نے متحدہ جہاد کونسل اور حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو نامزد عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔

ٹیگس