پاکستان کے صوبے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے پاکستانی فوجی اڈوں پر بڑے حملے
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر ٹیلیفونک رابطہ کیا اور جاری بحران کے حل کے لیے سفارتکاری اور بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔
سحرنیوز/پاکستان: پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستانی فوج اور حکومتی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔
ان حملوں میں فوجی اڈوں، خفیہ اداروں کے مراکز، پولیس اسٹیشنز، ریلوے ٹریکس، گیس پائپ لائنوں اور پلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
بلوچستان پوسٹ کے مطابق، ضلع مستونگ اور لکپاس کے علاقے میں بی ایل اے کے عناصر نے کوہ کمبیلا پر نصب ریڈار سسٹم کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ پاکستانی حکام نے چار فوجیوں کے زخمی ہونے اور ریلوے ٹریک کے کچھ حصے کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔
دریں اثنا، بلوچ علیحدگی پسندوں کے ترجمان جنید بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے 9 اضلاع میں 30 سے زائد حملے کیے گئے ہیں اور یہ کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں درجنوں پاکستانی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel