اٹلی اور البانیہ میں مظاہرے: ہندوستان کی اپنے شہریوں کے لیے حفاظتی ایڈوائزری
اٹلی اور البانیہ میں مہنگائی جاری مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے پیشِ نظر ہندوستان نے اپنے شہریوں کے لیے حفاظتی ایڈوائزری جاری کی ہے۔
سحرنیوز/ہندوستان: میڈیا رپورٹوں کے مطابق اٹلی اور البانیہ کے دارالحکومتوں روم اور تیرانا میں واقع ہندوستانی سفارتی مشنوں نے اپنے ملک کے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ بھیڑ والے علاقوں اور احتجاجی مقامات سے دور رہیں، مقامی خبروں پر نظر رکھیں اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔
اطلاعات کے مطابق اٹلی میں مہنگائی اور عوامی سہولیات کے معیار کے خلاف احتجاج کے دوران میلان میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق بدامنی کے دوران پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جب کہ بعض مظاہرین نے دکانوں کو نقصان پہنچایا اور آگ لگائی۔
شمالی اٹلی کے دیگر شہروں بولوگنا، بریشیا، برگامو اور تورین میں بھی احتجاج کے دوران تشدد کے واقعات سامنے آئے۔ روم میں قائم ہندوستانی سفارت خانے نے پیر کو جاری کردہ ایڈوائزری میں شہریوں کو احتیاط برتنے، بھیڑ والے علاقوں اور احتجاجی مقامات سے دور رہنے اور مقامی خبروں کے ذریعے حالات سے باخبر رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا، ’’ہندوستانی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ احتیاط برتیں، بھیڑ والے علاقوں اور ان مقامات سے گریز کریں جہاں احتجاج ہو رہا ہے اور ایسے واقعات سے متعلق مقامی خبروں پر نظر رکھیں۔‘‘
دوسری جانب، البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں حکومت مخالف مظاہرے کئی دن سے جاری ہیں۔ مظاہرین یونیورسٹیوں کی صورت حال بہتر بنانے، تعلیمی اخراجات کم کرنے، بدعنوانی کے خاتمے اور وزیرِ اعظم ایڈی راما کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
خبروں کے مطابق احتجاج میں طلبہ کے ساتھ حکومت کے دیگر مخالفین بھی شامل ہیں۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران آنسو گیس، واٹر کینن اور لاٹھیوں کا استعمال کیا گیا، جبکہ بعض مظاہرین نے پولیس پر پتھر اور پیٹرول بم بھی پھینکے۔
تیرانا میں بھی واقع ہندوستانی سفارتی مشن نے ایڈوائزری میں اپنے شہریوں کو محتاط رہنے اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے ’’یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ تیرانا اور یہاں تک کہ البانیہ ایک چھوٹا شہر اور ملک ہے، اس لئے یہاں بدامنی اور کشیدگی تیزی سے پھیل سکتی ہے۔‘‘
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel