Sep ۱۷, ۲۰۱۶ ۱۰:۳۳ Asia/Tehran
  • ایرانی حجاج کے قتل عام اور جنگ یمن کی بنا پر سعودی عرب پر مقدمہ چلانا چاہیے

اسلامی جمہوریہ ایران کے ادارہ ماحولیات کی سربراہ اور صدر کی مشیر معصومہ ابتکار نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سعودی عرب پر گزشتہ سال حج کے موقع پر ایرانی حاجیوں کے اجتماعی قتل عام اور جنگ یمن کی بنا پر مقدمہ چلانا چاہیے۔

تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق معصومہ ابتکار نے آسٹریا کے اخبار دی پرسے سے بات چیت میں اس سوال کے جواب میں کہ کیا ایران کی حکومت مشرق وسطی میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سعودی عرب کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہے، کہا کہ ایران نے مذاکرات کے لیے بہت زیادہ قدم اٹھائے ہیں اور ہم بدستور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ حتمی راہ حل مذاکرات کے اندر ہے لیکن سعودی عرب پر گزشتہ سال حج کے موقع پر ایرانی حاجیوں کے اجتماعی قتل عام اور جنگ یمن کی بنا پر مقدمہ چلانا چاہیے۔

انھوں نے مغرب کے ساتھ ایران کے ایٹمی معاہدے کے بارے میں کہا کہ یہ ایٹمی معاہدہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک اہم تبدیلی تھی۔ دنیا نے ایک کامیاب مذاکرات کا عمل دیکھا کہ جس میں ایک متنازعہ مسئلہ فوجی طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل ہوا۔

ایرانی صدر کی مشیر معصومہ ابتکار نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا ایٹمی معاہدے کے بعد کے ایک سال کے عرصے میں ایرانیوں کے حالات بہتر ہوئے ہیں، کہا کہ ہم تیل برآمد کر رہے ہیں۔ تھوڑا وقت درکار ہے تاکہ لوگ تبدیلی محسوس کر سکیں۔ انھوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ عمل اس رفتار سے آگے نہیں بڑھا جس کی بہت سے لوگ توقع کر رہے تھے۔

ٹیگس