اسرائیل کے ایٹمی ہتھیار پوری دنیا کی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں، ایران
اسلامی جمہوریہ ایران نے صیہونی حکومت کے ایٹمی ہتھیاروں کے گوداموں کو عالمی امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ اور صیہونی حکومت کے وزیراعظم نتن یاہو کے بے بنیاد دعوؤں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے پاس سیکڑوں ایٹمی وارہیڈز موجود ہیں جو مشرق وسطی اور پوری دنیا کی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں-
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ بے بنیاد دعوؤں اور بیانات کی تکرار ایک ایسی حکومت کی طرف سے کی جا رہی ہے جو کسی بھی بین الاقوامی قانون کی پابندی نہیں کرتی اور جو مظلوم فلسطینی عوام اور اپنے ہمسایہ ملکوں کے خلاف غیرانسانی اقدامات اور جرائم کا ارتکاب کرکے بے شمار سیاہ کارناموں کی حامل ہے-
انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کے سیاہ کارناموں کی بارہا اقوام متحدہ کی رپورٹوں میں بھی صراحت کے ساتھ نشاندہی کی گئی ہے- انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور نتن یاہو نے اپنی مشترکہ پریس کانفرنس میں جو باتیں کی ہیں ان میں ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں تکراری، بے بنیاد اور من گڑھت باتوں کے علاوہ اور کوئی نئی بات نہیں ہے-
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران کے خلاف یہ دعوے ایک ایسے وقت پھر دوہرائے گئے ہیں جب آئی اے ای اے نے بارہا اپنی رپورٹوں میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے پرامن ہونے کی تصدیق کی ہے-
انہوں نے کہا کہ ایٹمی ہتھیار بنانا مذہبی نقطہ نگاہ اور رہبرانقلاب اسلامی کے فتوے کے مطابق حرام ہے اور ان ہتھیاروں کی ایران کی دفاعی حکمت عملی میں کوئی جگہ نہیں ہے-
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ بلاشبہ ایران ایٹمی سمجھوتے کے مطابق کہ جس کی تائید سلامتی کونسل نے بھی کی ہے، اپنے ایٹمی پروگرام کو پوری سنجیدگی اور قوت کے ساتھ جاری رکھے گا-