خلیج فارس کے ممالک کشیدگی میں کمی کی کوشش کریں، ایران
ایران کی وزارت خارجہ ترجمان نے خلیج فارس کے ہمسایہ ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خطے کے تلخ واقعات سے عبرت حاصل کریں اور جذبات سے کام لینے کے بجائے، دانشمندی اور تدبیر نیز انتہائی صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے کشیدگی میں کمی اور حالات کو سازگار بنانے کا راستہ اپنائیں۔
خلیج فارس میں ایران کے جنوبی ہمسایہ ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور اس کی جلد از جلد بہتری کی امید ظاہر کی۔بہرام قاسمی نے کہا کہ ایک ایسے وقت جب خطہ دہشت گردی اور انتہا پسندی نیز فلسطین پر اسرائیلی قبضے سے پیدا ہونے والے بحران کے نتائج بھگت رہا ہے، ہمسایہ ملکوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی اور اس میں اضافہ خطے کی کسی بھی حکومت اور قوم کے مفاد میں نہیں ہے بلکہ یہ صورتحال سب کے مفادات کے لیے خطرہ ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ قطر کے ساتھ اس کے تین ہمسایہ ملکوں کے حالیہ اختلافات سمیت خطے کے ملکوں کے درمیان پائے جانے والے تمام اختلافات کو، صرف اور صرف ، پرامن سیاسی طریقے سے اور فریقین کے درمیان شفاف اور واضح مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دنیا میں پابندیوں کو بطور ہتھکنڈا استعمال کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے یہ بات زور دے کر کہی کہ خود مختار ملکوں کے اقتدار اعلی اور ارضی سالمیت کا تحفظ اور ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز نیز، مسلمہ عالمی سرحدوں کا احترام، بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کا بینادی اصول ہے اور تمام ملکوں کو اس کی پاسداری کرنا چاہیے۔درایں اثنا ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے انڈونیشیا کی وزیر خارجہ ریتنو مرسودی اور ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو سے ٹیلی فون پر بات چیت اور خطے کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔