امریکہ کی ایران دشمنی جاری ہے : کمال خرازی
صیہونی فوجیوں نے مسجد الاقصی میں دھرنا دینے ایک سو سے زائد فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ دوسری جانب اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کی اپیل پر غزہ میں زبردست عوامی مظاہرے کیے گئے۔
صیہونی فوجیوں نے مسجدالاقصی میں دھرنے پر بیٹھے فلسطینیوں پر حملہ کیا اور انہیں صوتی بموں اور آنسوگیس کے گولوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک سو سے زائد فلسطینی زخمی ہوگئے۔ صیہونی فوجیوں نے درجنوں فلسطینوں کو گرفتار کرنے کے بعد ایک بار پھر مسجد الاقصی کے دروازے بند کردیئے۔
فلسطین کی قومی ایکشن پارٹی کے سربراہ مصطفی برغوثی نے، نمازیوں پر تشدد کے جرم میں اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب صیہونی حکومت کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاھو نے اسرائیلی فوجیوں کو بیت المقدس اور اس کے اطراف کے علاقے میں پوری طرح چوکس رہنے کا حکم دیا ہے۔
صیہونی فوجیوں نے جمعرات کی شب ایک بار پھر مسجد الاقصی کے صحن پر حملہ کرکے وہاں دھرنے پر بیٹھے فلسطینیوں کو زبردستی باہر نکالنے کی کوشش کی اور انہیں صوتی بموں اور اشک آور گیس کا نشانہ بنایا۔
ادھر فوجی وردی میں ملبوس سیکڑوں فسطینی نوجوانوں اور عام شہریوں نے غزہ میں مظاہرے کیے اور مسجدالاقصی دفاع کے لیے اپنی بھرپور آمادگی کا اعلان کیا ۔ مظاہرے میں شریک لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں ایسے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر بیت المقدس کو فلسطین کا ابدی دارالحکومت قرار دیا گیا تھا۔
مظاہرین مسجد الاقصی پر صیہونی جارحیت کی مذمت میں نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ، صہیونی سازشوں کے مقابلے میں فلسطینیوں کے درمیان اتحاد کا بھی مطالبہ کر رہے تھے۔
مظاہرین نے عرب اور اسلامی ملکوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مقدس اسلامی مقامات پر اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں اپنی ذمہ داریاں محسوس اور مسجد الاقصی حمایت میں ٹھوس موقف اختیار کریں۔