ایران، فلسطینی انتفاضہ کی مکمل حمایت
ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے امریکہ کے صدر ٹرمپ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قراردینے کے اقدام کو شیطانی اقدام قراردیتے ہوئے کہا امریکی صدر نے در حقیقت صیہونیوں کی حمایت میں بالفور 2 کا اعلان کیا ہے۔
مجمع تشخیص مصلحت نظام کے رکن اور رہبر معظم کے بین الاقوامی امور کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے العالم کے ساتھ گفتگو میں ایران کی طرف سے فلسطینی انتفاضہ کی مکمل حمایت پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ شرائط کے پیش نظر مسلمان اور اسلامی ممالک بالفور 2 کو ہر گز برداشت نہیں کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ 1917 میں بالفور 1 کا جب برطانوی وزیر خارجہ نے اعلان کیا تو اس اعلان کے ذریعہ فلسطینی سرزمین کو صیہونیوں کے حوالے کردیا گیا اس وقت شرائط کچھ اور تھے پہلی عالمی جنگ تھی مسلمان دباؤ کا شکار تھے اور اس قسم کی سازش کا مقابلہ کرنے کی مسلمانوں میں ہمت نہیں تھی لیکن آج شرائط بالکل مختلف ہیں اور مسلم ممالک بالفور 2 کو ہر گز برداشت نہیں کریں گے۔
علی اکبرولایتی نے کہا کہ حتی وہ عرب حکومتیں جنھیں امریکہ کا اتحادی یا غلام کہا جاتا ہے وہ بھی امریکی صدر کے اس اقدام کی مذمت کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کے علاوہ دیگر ممالک بھی امریکی صدر کے اقدامات کے خلاف ہیں سکیورٹی کونسل کے 15 میں سے14 ممالک نے امریکی صدر کے اقدام کو مسترد کردیا ہے ۔
انھوں نے کہا کہ فلسطین کامستقبل روشن اور تابناک ہے اور فلسطینیوں کی فتح یقینی ہے فلسطینیوں کا تیسرا انتفاضہ فتح و کامرانی کی جانب بڑھ رہا ہے تیسرا انتفاضہ بہت ہی طاقتور اور مضبوط ہے اور ایران بیت المقدس کی آزادی تک فلسطینیوں کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھے گا کیونکہ فلسطینیوں کی حمایت مسلمانوں کی دینی، اسلامی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔
ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے داعش دہشت گرد تنظیم کے ذریعہ مسئلہ فلسطین کو دبا دیا تھا لیکن داعش کی شکست کے بعد اللہ تعالی نے مسئلہ فلسطین کو ایک بار پھر دنیا بھر میں اجاگر کردیا ۔