ہمیں چھپ کر عراق کا دورہ کرنے کی ضرورت نہیں، ایرانی وزیر خارجہ
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اور عراق کے درمیان گہرے تعلقات قائم ہیں اور ہمیں خفیہ طور پر عراق جانے کی ضرورت نہیں۔
عراق کے صوبے نجف اشرف میں تاجروں اور سرمایہ کاروں کے اجلاس کے بعد وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ دورہ کسی بھی ملک کا طویل ترین دورہ ہے اورعراقی حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات انتہائی اطمینان بخش رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عراق کے مختلف شہروں کے دورے کے موقع پر مقامی حکام کے علاوہ پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والوں نیزعراقی قبائلی عمائدین سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔
ایران کے وویرخارجہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ان ملاقاتوں میں ایران اورعراق کے عوام اور حکومت کے درمیان قریبی رابطوں اور رشتوں کا اثر پوری طرح نمایاں تھا، انہوں نے کہا کہ داعش کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والوں کے خون سے عراق اور ایران کے عوام کے درمیان دیرینہ رشتوں کی مزید آبیاری ہوئی ہے۔
ایران کے وزیرخارجہ نے نجف اشرف میں ایرانی اورعراقی تاجروں اور صعنت کاروں کے مشترکہ اجلاس کو انتہائی ثمر بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے نجی شعبے کے درمیان تعاون تیزی کے ساتھ فروغ پا رہا ہے۔
ڈاکٹرجواد ظریف نے اپنے دورے اورکچھ عرصہ قبل انجام پانے والے امریکی صدر کے خفیہ دورہ عراق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ عراق کے ساتھ ہمارے تعلقات بناوٹی اور مصنوعی نہیں لہذا ہمیں چھپ کرعراق آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عراقی عوام سے مل سکتے ہیں ان کے درمیان جاسکتے ہیں، مقدس مقامات کی زیارت کرسکتے ہیں اورعراقیوں میں گھل مل سکتے ہیں۔
ایران کے وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایران اور عراق کے تعلقات کا مستقبل پوری طرح روشن ہے اور انشااللہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں روز برروز پائیداری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی عنقریب عراق کا دورہ بھی کریں گے اور مجھے امید ہے کہ ان کا یہ دورہ انتہائی کامیاب اور ثمربخش ثابت ہوگا۔ایران کے وزیر خارجہ نے تہران بغداد تعلقات کے بارے میں امریکی وزیرخارجہ مائک پومپیو کے مداخلت پسندانہ بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مائک پمپیو کو ایران اورعراق کے تعلقات میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اورعراق کے درمیان اس وقت سے تعلقات چلے آرہے ہیں جب دنیا میں امریکہ کا وجود بھی نہیں تھا اور ہمارے درمیان بہت ہی اچھے تعلقات رہے ہیں۔