ایران کسی کی شرط کو قبول نہیں کرتا، ترجمان وزارت خارجہ
ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کوئی ایسا ملک نہیں جو کسی کی شرط قبول کرے اور ایران داخلہ اور خارجہ معاملات میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دیتا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے پیر کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ان خبروں پر کہ ایران نے یورپی یونین کے ساتھ تعاون میں توسیع کے عوض اپنا علاقائی اثر و رسوخ کم کرنے کی یورپ کی شرط کو قبول کرلیا ہے، ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ایران کا علاقائی اثر و رسوخ، جس کو روکنے کے لئے امریکا اور اسرائیل اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں عوامی اور ذاتی نوعیت کا ہے جس کا ایرانی حکومت کی جانب سے کسی خاص اقدام سے کوئی ربط نہیں ہے-
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران کا علاقائی اثر و رسوخ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے کوئی ایک یا دو ممالک کم کر سکیں - ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خود مختاری کی بدولت اپنی علاقائی اور عالمی پالیسیوں کو جاری رکھے گا- ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سعودی ولیعہد بن سلمان کے حالیہ دورہ پاکستان اور پاکستان کے ساتھ ایران کے تعلقات کے بارے میں کہا کہ تہران اور اسلام آباد کے تعلقات دیرینہ ہیں اور دونوں ہی پڑوسی ممالک اپنے تعلقات میں اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کا خیال رکھتے ہیں-
انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ سیستان و بلوچستان میں سپاہ پاسداران کی بس پر حالیہ دہشت گردانہ حملے کے بعد ایران اور پاکستان کے تعلقات میں پچھلے دنوں پیش آئے اختلافات پاکستانی حکومت کی خواہش نہیں ہیں، کہا کہ اس کے باوجود ایران نے حکومت پاکستان سے کہا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کی سرحدوں پر سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لئے معاملات کی مزید سنجیدگی کے ساتھ پیروی کرے اور اس سلسلے میں دونوں ممالک مسلسل رابطے میں ہیں-
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اور اس سلسلے میں ایران کے موقف کے بارے میں بھی کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ کہا ہے کہ بین الاقوامی حالات و واقعات کے پیش نظر ہندوستان اور پاکستان کے مابین کشیدگی دونوں ملکوں میں سے کسی ایک کے بھی حق نہیں ہے اور تہران نے دونوں ملکوں سے کہا ہے کہ وہ پرامن طریقے سے اپنے اختلافات کو حل کریں-
انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان اور پاکستان کو ضرورت ہوئی تو ایران ان دونوں ملکوں کے درمیان صلح و دوستی کرانے کے لئے اپنی کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا-
ترجمان وزارت خارجہ نے شام کے صدر بشار اسد کے حالیہ دورہ تہران کے بارے میں بھی کہا کہ اس طرح کے دوروں کے بارے میں ان کے سیاسی اور سیکورٹی نتائج و اثرات کے پیش نظر عام طور سے پہلے سے اطلاع نہیں دی جاتی اسی لئے بشار اسد کے تہران آنے اور ان کی واپسی کے تعلق سے صحیح روش کو اپنایا گیا اور جن لوگوں کو اس دورے کی پہلے سے اطلاع ہونی چاہئے تھی انہیں اس کی اطلاع پہلے سے تھی-
انہوں نے حزب اللہ کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کے برطانوی حکومت کے اقدام کے بارے میں بھی کہا کہ حسن ظن کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ برطانیہ نے اسٹریٹیجک غلطی کی ہے جبکہ اس کے علاوہ اگر کہا جائے تو برطانوی حکومت کا یہ اقدام علاقے کے بعض ملکوں سے اس کے تعلقات سے مربوط ہے۔
انہوں نے کہا کہ حزب اللہ، لبنان کی حکومت اور پارلیمنٹ کا ایک اہم حصہ ہے اور گذشتہ برسوں کے دوران دہشت گرد گروہوں کے مقابلے میں اس نے بھرپور استقامت کا مظاہرہ کر کے دہشت گردوں کی سرگرمیوں کا دائرہ یورپ تک پھیلنے سے روکا ہے۔