Nov ۰۷, ۲۰۱۹ ۱۴:۲۰ Asia/Tehran
  •  فردو ایٹمی تنصیبات میں یورینیئم کی مزید افزودگی کا عمل شروع

امریکا کی خلاف ورزیوں اور یورپ کی وعدہ خلافیوں کے جواب میں ایران کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد میں کمی کے چوتھے مرحلے کے آغاز میں یوررینیئم کی افزودگی کی سطح پانچ فیصد تک پہنچانے کے لئے فردو ایٹمی تنصیبات میں یورینیئم کی افزدگی کا کام شروع کردیا گیا ہے

ایران کے محکمہ ایٹمی توانائی کے مطابق جمعرات کی صبح کے ابتدائی لمحات یعنی بدھ کی رات بارہ بجے کے بعد سے ، فردو کی شہید علی محمدی؛ ایٹمی تنصیبات میں، یورینیئم کی ا‌فزودگی کا کام شروع ہوگیا ہے۔

ایران کے محکمہ ایٹمی انرجی نے ایک بیان جاری کرکے بتایا ہے کہ صدرمملکت اور اعلی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر حسن روحانی کے فرمان کے مطابق فردو ایٹمی تنصیبات میں نصب پیشرفتہ سینٹری فیوج مشینوں میں جمعرات کی صبح گیس بھرنے کے بعد افزودگی کا عمل شروع کردیاگیا۔

اس بیان کے مطابق فردو کی شہید علی محمدی ایٹمی تنصیبات میں یورینیئم کی افزودگی سے متعلق سبھی سرگرمیاں ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی آئی اے ای اے کے انسپکٹروں کی نگرانی میں انجام پارہی ہیں۔

ایران کے محکمہ ایٹمی توانائی کے ترجمان بہروز کمالوندی نے بدھ کی رات ایک گفتگو میں بتایا تھا کہ فردو کی شہید علی محمدی ایٹمی تنصیبات میں یورینیئم کی افزودگی کی سطح سنیچر کو ساڑھے چار فیصد تک پہنچ جائے گی ۔

ایران کے محکمہ ایٹمی توانائی کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی کے مطابق ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد میں کمی کے چوتھے مرحلے میں ملک میں یورینیئم کی افزودگی کی سطح بڑھا کے پانچ فیصد کردی جائے گی ۔

ایٹمی صنعت میں یورینیئم کی افزودگی بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور ایران نے اس میدان میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ ایران اس وقت بھی بیس فیصد افزودگی کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن فی الحال اس کو اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ ایران میں یورینیئم کی افزودگی کی ٹیکنالوجی مکمل طور پر مقامی یعنی اس کی اپنی ہے جو ایٹمی صنعت کی بنیاد ہے اور نیوکلیئر میڈیسن، زراعت اور صنعت میں ترقی و پیشرفت سمیت تمام پرامن مقاصد کے لئے ایٹمی توانائی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ ایران کی ایٹمی صنعت مسلسل ترقی کررہی ہے اور ایرانی سائنسدانوں نے ایٹمی ٹیکنالوجی کی چوٹیاں سرکرلی ہیں۔

یہاں اس بنیادی نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ایران کی ایٹمی صنعت ، ایٹمی معاہدے کے دائرے میں رہتے ہوئے پر امن مقاصد کے لئے ترقی و پیشرفت کی راہ پر گامزن ہے ۔ایران کی نطنز ایٹمی تنصیبات میں نئی نسل کی پیشرفتہ آئی آر سکس سینٹری فیوج مشینوں کی رونمائی ، اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی ایٹمی صنعت میں ایران کی ترقی و پیشرفت کو نہیں روک سکی ہے۔

بہرحال ایران نے امریکا کی خلاف ورزیوں اور یورپ کی وعدہ خلافیوں کے جواب میں ایٹمی معاہدے پر کمی کے چوتھے مرحلے کا آغاز کردیا ہے۔ایران کا یہ اقدام جامع ایٹمی معاہدے کی شق نمبر چھتیس کے مطابق ہے اور اس کو ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کہا جاسکتا۔

ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد میں کمی کے چوتھے مرحلے کے آغاز پر یورپ کا ردعمل پوری طرح سیاسی ہے اس لئے کہ جامع ایٹمی معاہدے میں دوسرے فریقوں کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں ایران سمیت سبھی فریقوں کو معاہدے پر عمل درآمد روک دینے یا اس میں کمی کا حق دیا گیا ہے ۔اسی بنیاد پر ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے سابق سربراہ ہانس بلکس نے ایران کی فردو ایٹمی تنصیبات میں افزودگی کا عمل دوبارہ شروع کئے جانے پر کہا ہے کہ ایران کی جانب سے معاہدے پر عمل درآمد میں کمی کا چوتھا مرحلہ جامع ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہے ۔

ٹیگس