Dec ۰۱, ۲۰۱۹ ۱۳:۴۳ Asia/Tehran
  • ایٹمی معاہدے کا تحفظ تمام ملکوں کی ذمہ داری ہے، ایران

ایران کے نائب وزیر خارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جامع ایٹمی معاہدہ ایک بین الاقوامی سفارتی دستاویز ہے اور اس کا تحفظ و پاسداری تمام ملکوں کی ذمہ داری ہے۔

بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ مشاورت کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایران کے سینیئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد بائیس اکتیس کے ذریعے ایران کے ساتھ ہونے والے جامع ایٹمی معاہدے کی توثیق کر کے اسے عالمی دستاویز کا درجہ دے دیا ہے۔ایران کے سینیئر ایٹمی مذاکرات کار نے کہا کہ امریکہ خود سلامتی کونسل کا ایک رکن ہے لہذا بین الاقوامی جامع ایٹمی معاہدے سے اس کی یک طرفہ علیحدگی سلامتی کونسل کی قرارداد کے منافی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ صرف ایٹمی معاہدے سے نکلا ہی نہیں ہے بلکہ معاہدے میں باقی ماندہ ممالک پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ بھی اس معاہدے سے علیحدہ ہوجائیں جو دیگر ملکوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔سید عباس عراقچی نے ایٹمی معاہدے پر عملدرامد کی سطح میں کمی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے اقدامات کا مقصد ایٹمی معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنا نہیں بلکہ اس کا تحفظ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی معاہدے کی شق چھتیس میں فریقین کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کے حل کا مکینیزم موجود ہے اور ایران اپنے اسی حق کا استعمال کر رہا ہے۔قبل ازیں ایران کے نائـب وزیر خارجہ سید عباس عراقـچی اور چین کے نائب وزیر خارجہ ماجاؤ شی نے ایک دوسرے سے ملاقات اور ایٹمی معاہدے کی تازہ ترین صورتحال اور اس سے متعلق دیگر امور کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔سید عباس عراقچی نے اس موقع پر کہا تھا کہ تہران اور بیجنگ ایک دوسرے کے اسٹریٹیجک شریک ہیں اور انہیں خوشی ہے کہ اہم ترین علاقائی اور بین الاقوامی مسائل کے بارے میں چینی حکام کے ساتھ صلاح و مشورے کا موقع فراہم ہوا ہے۔ماجاؤ شی نے بھی اس موقع پر ایران کو اسٹریٹیجک شریک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات کے فروغ کے ساتھ ساتھ اہم ترین علاقائی و بین الاقوامی معاملات خاص طور سے جامع ایٹمی معاہدے اور عالمی امن و سلامتی جیسے امور میں تعاون کو مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

ٹیگس