سپاہ پاسداران کا تاریخی مشن مکمل، "شہید مہدوی" جنگی جہاز وطن واپس پہنچا
سپاہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کا جنگی جہاز شہید مہدوی اپنے ستاون روزہ بین الاقوامی سفر اور برکس ممالک کی مشترکہ بحری مشقوں میں حصہ لینے کے بعد وطن واپس پہنچ گیا ہے جس کا پرتپاک استقبال کیا گیا
سحرنیوز/ایران: رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کے زیر انتظام سمندر پار آپریشنز کے لیے تیار کیا گیا یہ کثیر المقاصد بحری جہاز ایران کے علاقائی پانیوں میں داخل ہوگیا ہے۔ اس بحری جہاز نے جنوبی افریقہ کے ساحل کے قریب برکس ممالک کی بحری مشقوں میں حصہ لیا، جسے ایران کی علاقائی حدود سے باہر بحری سرگرمیوں کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس جہاز کی وطن واپسی کے موقع پرمنعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بحریہ کے کمانڈر علیرضا تنگسیری نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج رہبر انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی ہدایات کے مطابق مضبوط عزم کے ساتھ عالمی سمندروں میں پیش قدمی کے لیے تیار ہیں۔
شہید مہدوی بحری جہاز تقریباً دس ہزار سات سو بحری میل، یعنی تقریبا اٹھارہ ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے لوٹا، جو ایران کے ایک سو تینویں بحری بیڑے کا حصہ تھا۔ اس بیڑے میں فوج کا ڈسٹرائر شہید نقدی اور اگلے مورچے کا بحری اڈہ جہاز مکران بھی شامل تھے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
یہ مشن کئی حوالوں سے تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ سپاہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کی جنوبی نصف کرے میں پہلی باضابطہ موجودگی تھی اور اسی کے ساتھ بحر اوقیانوس میں اس کی پہلی عملی گشت بھی۔ مئی دوہزارچوبیس میں یہ جہاز خط استوا عبور کر کے جنوبی نصف کرے میں داخل ہوا تھا۔
اکیس سو ٹن وزنی، دوسوچالیس میٹر طویل اور ستائیس میٹر چوڑا یہ جہاز مارچ دوہزار تیئس میں بحری بیڑے میں شامل کیا گیا تھا۔ اسے تین جہتی مرحلہ وار ریڈار نظام، سمندر سے سمندر اور سمندر سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، جدید مواصلاتی نظام اور الیکٹرانک جنگی سازوسامان سے لیس کیا گیا ہے۔
یہ جہاز بڑی تعداد میں نگرانی اور حملہ آور ڈرون، مختلف اقسام کے حملہ آور ہیلی کاپٹر اور تیز رفتار کشتیاں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کروز میزائل لانچ نظام تقریباً ایک ہزار کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اسے تیرتا ہوا بحری اڈہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔