امریکہ عالمی اداروں کو کمزور کررہا ہے، ایران و چین کا اعلان
ایران اور چین کے وزرائے خارجہ نے اپنی ٹیلی فونک گفتگو میں علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کی پبلک ریلیشن آفس کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے افغانستان میں قیام امن اور جاری صورتحال پر دنیا کے دیگر ممالک کے اعلی حکام کے ساتھ تبادلہ خیال کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے بدھ کو چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو میں افغانستان کے امور اور کورونا کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔
ایران اورچین کے وزراء خارجہ نے باہمی گفتگو، دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور کورونا وائرس کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے پر تاکید کی۔ جواد ظریف اور وانگ یی نے امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں من جملہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ عالمی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب افغانستان میں سیاسی تبدیلیوں اور اس حوالے سے ایرانی محکمہ خارجہ کی سفارتی کوششوں بشمول افغان حکام سے ایرانی وزیر خارجہ کے ٹیلی فونک رابطوں کے پیش نظر، اس وزارت میں قائم ادارہ برائے سیاسی اور بین الاقوامی اسٹیڈیز نے افغان سیاسی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کیلئے ایک ویڈیو کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں بین الاقوامی شعبے میں سرگرم نجی اور سرکاری حکام نے شرکت کی۔
اس اجلاس میں اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان کے امور سمیت ناروے، جرمنی، امریکہ، ازبکستان، افغانستان، ہندوستان، پاکستان، روس اور بلجیم کے ماہرین نے حصہ لیا ۔
اس ویڈیو کانفرس میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال، افغان حکومت کے مستقبل اور اس حوالے سے رونما ہونے والے بین الاقوامی اور علاقائی چیلنجز کا جائزہ لیا گیا۔