تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش
یورپی یونین اور بلجیم میں ایران کے سفیر نے شام کے بحران کو فوجی مرحلے سے سیاسی مرحلے میں منتقل کرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے داعش اور دیگر تکفیری گروہوں کی ممکنہ بحالی پر چوکس رہنے کی ضرورت پر تاکید کی ۔
یورپی یونین اور بلجیم میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیرغلام حسین دہقانی نے برسلز میں علاقے اور شام کے مستقبل کی حمایت سے متعلق منعقدہ ایک ورچوئل اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام کے بحران کو 10 سال ہو گئے جس سے یہ تلخ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ عالمی برادری کو بین الاقوامی حقوق بالخصوص شام کی قومی سالیمت، خودمختاری اوراس بحران کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
غلام حسین دہقانی نے شام کے بحران کے سیاسی حل پر ایران کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ترکی اور روس کے تعاون سے آستانہ امن عمل کے فریم ورک کے اندر ہونے والی کوششوں کے ذریعے شام کے بحران کو فوجی طریقے سے حل کرنے کے بجائے سیاسی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی اورشام کی آئین ساز کمیٹی کی جانب سے انٹرا شام ڈائیلاگ کے انعقاد کی ایران نے بدستور حمایت کی ہے۔
ایران کے سفیر نے شامی پناہ گزینوں کی انسانی وقار کیساتھ وطن واپسی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شامی تارکین وطن اور شام کی از سر نو تعمیر کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔
انہوں نے کورونا وبا کے پھیلاؤ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شام کو بیک وقت جنگ اورکورونا وائرس کے بحرانوں کا سامنا ہے جس سے شام کی از سر نو تعمیر اور انسان دوستانہ امداد کی اہمیت دوگنی ہوجاتی ہے۔