جمہوریت کے دعویدار برطانیہ کے اوچھے ہتھکنڈے
سرکاری میڈیا کے ذریعے ایرانی عوام کو ورغلائے جانے پر تہران میں متعین برطانوی سفیر کی دفتر خارجہ ميں طلبی
ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ تہران میں متعین برطانوی سفیر کو محکمہ خارجہ میں طلب کرکے برطانیہ میں مقیم ایرانی شہریوں کی پولنگ کے عمل کو متاثر کئے جانے پراحتجاج کیا گیا۔
"سعید خطیب زادہ" نے کہا کہ برطانیہ میں لندن اور برمنگھم سمیت کچھ برطانوی شہروں میں ایران کے 13 ویں صدارتی انتخابات میں خلل ڈالا گیا جس میں ووٹروں اور ایگزیکٹو ایجنٹوں کی توہین اور انقلاب اور جمہوریت مخالف دہشت گرد عناصر کے ذریعے ایک خاتون ووٹر پر تشدد بھی کیا گيا۔
ہفتے کے روز برطانوی سفیر" راب میک" کو محکمہ خارجہ میں طلب کرکے برطانیہ میں مقیم ایرانی شہریوں کی پولنگ کو متاثر کرنے کے عمل پر احتجاج کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ برطانوی سفیر پر واضح کیا گيا کہ برطانوی حکومت اور پولیس، پولنگ مراکز اور ووٹرز کی حفاظت کو یقینی بنانے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔
اس کے ساتھ ہی برطانوی سفیر سے کہا گیا کہ جمہوریت گلیوں میں چند فسادیوں کی نقل و حرکت سے نہیں بلکہ بیلٹ باکس کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔
سعید خطیب زادہ نے کہا کہ اس موقع پر بی بی سی فارسی اور ایران انٹرنیشنل سمیت برطانیہ میں مقیم فارسی زبان میڈیا کے مذموم اور منافقانہ اقدامات پر بھی کڑی تنقید کی گئی۔
بی بی سی فارسی نے ایران کے صدارتی انتخابات کے بائیکاٹ اور لوگوں کو سڑکوں پر احتجاج کرنے کے لئے اکسانے کی کوشش کی تھی ۔
انہوں نے کہا کہ جمہوری عمل کے خلاف اقدامات اور ہنگامہ آرائی کے لئے اکسانے کی کوششوں جیسے مذموم اقدامات کو ایرانی عوام ہرگز فراموش نہيں کریں گے۔