پاکستانی وزیراعظم کا منتخب ایرانی صدر کو فون، اہم امور پر تبادلہ خیال
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے نومنتخب صدر ایران سید ابراہیم رئیسی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔
منتخب صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق، پاکستان کے وزیراعظم عمران نے اس ٹیلی فونی گفتگو میں سید ابراہیم رئیسی کو ایران کا صدر منتخـب ہونے پر مبارک باد پیش کی۔
پاکستان کے وزیراعظم نے منتخب صدر سید ابراہیم رئیسی کے ساتھ جلد ملاقات کی امید ظاہر کرتے ہیں، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ انہیں افغانستان کی صورتحال اور اس ملک میں طویل جنگ کے حوالے سے سخت تشویش لاحق ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم نے سیاسی ڈائیلاگ کو افغانستان کی صورتحال کا بہترین حل قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اس مقصد کا حصول دشوار دکھائی دیتا ہے۔
ایران کے منتخب صدر سید ابراہیم رئیسی نے ٹیلی فون پر رابطہ کرنے اور پاکستانی عوام اور حکومت کی جانب سے ہدیہ تبریک پیش کئے جانے کا شکریہ ادا کیا۔
سید ابراہیم رئیسی نے ایران اور پاکستان کے عوام کے درمیان پائے جانے والے مضبوط رشتوں اور دونوں ملکوں کے درمیان موجود گونا گوں گنجائشوں کو تہران اسلام آباد تعاون اور تعلقات کے فروغ کی مناسب بنیاد قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم بردار ملک پاکستان کی حکومت اور عوام کی کامیابی کو ایران کی حکومت اور عوام کی کامیابی سمجھتے ہیں۔
سید ابراہیم رئیسی نے خطے کے ملکوں میں" باہمی اعتماد" اور "ہم آہنگی کے فروغ" کو پڑسی ملکوں کے درمیان تعاون نیز پائیدار اور مستحکم تعلقات کے دو بنیادی ستون قرار دیا۔
ایران کے منتخب صدر نے کہا کہ نئی حکومت کی اقتصادی سفارت کاری میں ہمسایہ ملکوں میں پائی جانے والی تمامتر اقتصادی گنجائشوں کو فوقیت حاصل رہے گی اور اقتصادی تعاون سے ذرہ برابر غفلت نہیں برتی جائے گی۔
سید ابراہیم رئیسی نے کہا کہ خطے کے ملکوں کے تعاون سے ہی پائیدار سلامتی کی ضمانت فراہم کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہ تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ بیرونی طاقتیں قیام امن کے بہانے، خطے میں بدامنی کے بیج بوکر علاقائی استحکام کو مخدوش بنائے رکھنا چاہتی ہیں۔
ایران کے نو منتخب صدر نے مسئلہ فلسطین کو عالم اسلام کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ مظلوم فلسطینیوں کی ٹھوس، موثر اور دائمی حمایت کے ذریعے علاقائی امن و استحکام کو پائیدار بنایا جاسکتا ہے۔
سید ابراہیم رئیسی نے افغانستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، افغانستان کی سلامتی ہمارے لیے انتہائی اہم ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کام خود افغان عوام کے ذریعے انجام پانا چاہیے۔