سعودی عرب کے ممتاز عالم دین کے بھتیجے کی سزائے موت کے فیصلے پر بحرینیوں کا ردعمل
Sep ۱۸, ۲۰۱۵ ۱۸:۵۸ Asia/Tehran
بحرین کی جمعیت العمل الاسلامی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ممتاز عالم دین شیخ باقر النمر کے بھتیجے پر لگائے گئے الزامات بےبنیاد ہیں-
براثا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بحرین کی جمعیت العمل الاسلامی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب میں آل سعود کی حکومت نے شیخ باقر النمر کے بھتیجے علی محمد النمر کو پھانسی کی سزا سنا کر یہ ثابت کردیا ہے کہ اس ملک میں ماضی سے زیادہ شیعہ مسلمانوں کے حقوق پامال کئے جا رہے ہیں-جمعیت العمل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ علی محمد النمر کر دو ہزار بارہ میں گرفتار کیا گیا تھا اور گرفتاری کے وقت وہ اپنی قانونی عمر کو نہیں پہنچا نہیں تھا- اس پر ناروا الزامات لگائے گئے ہیں کیونکہ اس کا قصور صرف یہ ہے کہ اس نے جائز حقوق اور آزادی کے مطالبے کے لئے، عوامی مظاہروں میں شرکت کی تھی-
جمعیت العمل الاسلامی نے کہا ہے کہ علی محمد النمر کو بھی اس کے چچا کی طرح پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے لیکن سب کو اس بات کا علم ہے کہ ان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ سعودی عوام کے حقوق اور آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں- جمعیت العمل الاسلامی نے کہا ہے کہ سعودی حکومت، صوبہ الشرقیہ کی پانچ اہم شخصیات کو پھانسی کی سزا سنا چکی ہے اس لئے قانونی اداروں اور تنظیموں کو چاہئے کہ ان افراد کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کی روک تھام کے لئے کوشش کریں-