سعودی عرب کی قیادت میں ایک لاکھ پچاس ہزار فوجیوں کے شام بھیجے جانے کی تردید
-
سعودی عرب نے اس سے قبل کہا تھا کہ چونکہ بمباری سے داعش کو شکست نہیں ہوگی اس لئے وہ اپنی برّی فوج شام بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ترکی کے ذرائع نے سعودی عرب کی قیادت میں ایک لاکھ پچاس ہزار فوجیوں کے شام بھیجے جانے کی تردید کی ہے۔
فارس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ترک وزیر اعظم کے دفتر میں باخبر ذرائع نے کہا ہے کہ جنوبی ترکی سے سعودی عرب کی قیادت میں ایک لاکھ پچاس ہزار فوجیوں کے شام بھیجے جانے کی خبر درست نہیں ہے۔
دو دن قبل سعودی عرب کے ذرائع نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک لاکھ پچاس ہزار فوجیوں کو تربیت دے کر انہیں شام میں کارروائیاں انجام دینے کے لئے اس ملک میں بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ پچاس ہزار فوجی اس وقت سعودی عرب میں موجود ہیں اور ان کو داعش کے نام نہاد مقابلے کے بہانے شام بھیجا جائے گا۔ ان میں اکثریت کا تعلق سعودی عرب، سوڈان، مصر اور اردن سے ہے۔
ان ذرائع نے تاکید کی ہے کہ مراکش، کویت، ترکی، بحرین، متحدہ عرب امارات اور قطر بھی ریاض اور انقرہ کی کمان میں اپنے فوجی ترکی کے راستے شام بھیجیں گے۔ ملائیشیا، انڈونیشیا اور برونائی دارالسلام بھی اپنے فوجی سعودی عرب بھیجنا چاہتے ہیں۔
سعودی عرب نے اس سے قبل کہا تھا کہ چونکہ بمباری سے داعش کو شکست نہیں ہوگی اس لئے وہ اپنی برّی فوج شام بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے اس فیصلے کا واشنگٹن نے خیر مقدم کیا ہے۔