Feb ۱۴, ۲۰۱۶ ۱۰:۰۸ Asia/Tehran
  • صوبہ بغلان میں طالبان کے خلاف آپریشن بدستور جاری ہے۔
    صوبہ بغلان میں طالبان کے خلاف آپریشن بدستور جاری ہے۔

افغانستان کی وزارت دفاع کے ترجمان جنرل دولت وزیری نے کہا ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش کو افغانستان میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔

صدائے افغان(آوا) خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی وزارت دفاع کے ترجمان جنرل دولت وزیری نے کہا ہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش بہت زیادہ وسائل اور پروپیگنڈے کے ذریعے جنوبی افغانستان میں واقع صوبہ ہلمند میں ایک بڑا اڈا قائم کرنا چاہتا تھا لیکن سیکورٹی فورسز اور فوج کے حملوں کے باعث اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جنرل دولت وزیری کا مزید کہنا تھا کہ داعش کے عناصر اس شکست کے بعد فراہ کی جانب فرار ہوگئے لیکن جب ان کو وہاں بھی شکست کا منہ دیکھنا پڑا تو وہ نورستان بھاگ گئے۔ اس صوبے میں شکست سے دوچار ہونے کے بعد وہ جلال آباد چلے گئے اور پھر انہوں نے شینوار شہر میں اپنی سرگرمیاں شروع کر دیں۔

افغانستان کی وزارت دفاع کے ترجمان جنرل دولت وزیری نے یہ بھی کہا کہ صوبہ بغلان میں طالبان کے خلاف آپریشن بدستور جاری ہے اور اب تک اس گروہ کے ایک سو پچاس سے زیادہ عناصر ہلاک اور ایک سو پچھتر زخمی ہوچکے ہیں جبکہ متعدد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ جنرل دولت وزیری کا کہنا تھا کہ بغلان طالبان کے لئے اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل صوبہ ہے اور بغلان میں اس گروہ کی شکست شمالی علاقے میں ان کی شکست کے مترادف ہے یہی وجہ ہے کہ وہ یہاں شکست سے بچنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔

ٹیگس