Mar ۲۸, ۲۰۱۶ ۰۹:۵۲ Asia/Tehran
  • بحران یمن کے حل میں امریکہ رکاوٹ

انقلاب یمن کی اعلی کمیٹی کے چیئرمین نے کہا ہے کہ امریکی خلاف ورزیاں جنگ یمن روکنے کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق انقلاب یمن کی اعلی کمیٹی کے چیئرمین محمد علی الحوثی نے المسیرہ ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ جنگ یمن کی باگ ڈور امریکہ نے سنبھال رکھی ہے اور اس کی خلاف ورزیاں جنگ کی روک تھام میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بحران یمن کو سیاسی طریقے سے ختم کرنے کے لئے اقوام متحدہ کو چاہئے کہ بھرپور کردار ادا کرے اس لئے کہ یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ولد الشیخ گذشتہ آٹھ ماہ سے سرگرم عمل ہیں مگر ان کی کوششوں کا اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔

انقلاب یمن کی اعلی کمیٹی کے چیئرمین محمد علی الحوثی نے کہا کہ اس بات کے ثبوت موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ جنگ یمن، امریکی حکم سے شروع ہوئی ہے اور اسی کے حکم سے اب تک جاری ہے اور جب تک امریکہ اپنی خلاف ورزیوں سے باز نہیں آئے گا جنگ یمن ختم نہیں ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل بھی امریکہ کا اتحادی اور جنگ یمن میں شمولیت اختیار کئے ہوئے ہے اس لئے کہ باب المندب، یمن کا ایک اہم علاقہ ہے جس پر برسوں سے امریکہ اور اسرائیل کی حریصانہ نظریں جمی ہوئی ہیں۔

 یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے گذشتہ ایک سال سے جاری وحشیانہ حملوں میں ہزاروں یمنی شہری شہید اور دسیوں لاکھ بےگھر ہوئے ہیں جبکہ اس ملک کی بنیادی شہری تنصیبات پوری طرح تباہ ہو چکی ہیں۔ یمن کے رہائشی علاقوں پر سعودی عرب کے حملے اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر انجام پا رہے ہیں جن کے دوران سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمنی شہریوں پر کلسٹر بم بھی برسائے۔ ان حملوں کے دوران اسکولوں اور اسپتالوں کو بھی بری طرح نشانہ بنایا گیا۔

یمن پر سعودی عرب کے وحشیانہ حملوں کی عالمی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے لیکن آل سعود حکومت امریکی حمایت کی بناء پرعالمی برادری کے احتجاج کی پرواہ کئے بغیر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے امریکا کو بھی یمن میں عام شہریوں پر ہونے والے مظالم میں شریک جرم قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن کے عوام کی انقلابی تحریک کو کچلنے اور معزول صدر منصور ہادی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے بہانے یمن پر جارحانہ حملے شروع کئے تھے۔

ٹیگس